ایران کے بغداد، اردن میں امریکی بیسز پر حملے، لاجسٹک سینٹر اور جنگی طیارے نشانہ بنانے کا دعویٰ

0 minutes, 0 seconds Read
ایران نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی لاجسٹک سینٹر اور اردن میں قائم بیس میں جنگی طیاروں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی سفارتی اور لاجسٹک سینٹر پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاجسٹک سینٹر پر دو ڈرون گرے، جس کے نتیجے میں آگ لگی لیکن کسی کے زخمی ہونے کی رپورٹ نہیں ہے جبکہ ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک اور ڈرون کو مار گرایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس میں عراقی فوجی بیس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کی تنصیابات بھی قائم ہیں۔

ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اردن میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں جنگی طیارہ نشانہ بنا۔

ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مشرقی اردن میں واقع الازرق ایئر بیس میں ایک امریکی فوجی اڈے پر امریکی لڑاکا طیاروں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جو امریکہ کا ایک اہم فوجی مرکز ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس فوجی گیس میں جدید تنصیبات اور بڑی تعداد میں عملہ موجود ہوتا ہے، جس کے باعث یہ مغربی ایشیا میں امریکے کے سب سے اہم اسٹریٹیجک فوجی مقامات میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

ایرانی فوج نے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بہادر سپاہیوں نے اردن کے الازرق بیس پر تعینات امریکا کی دہشت گرد فوج کے جدید لڑاکا طیاروں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

مزید بتایا گیا کہ الازرق بیس خطے میں امریکا کی فضائی قوت کو مربوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، جس میں جدید جنگی طیاروں اور ڈرون مشنز کا استعمال شامل ہے جو ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی گروپس کو نشانہ بناتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ دشمن کی فضائی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج نے گزشتہ ہفتے بھی الازرق ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس میں لاجسٹک گوداموں، اسلحے کے ذخیرے کا مراکز اور امریکی فوجیوں کے زیر استعمال رہائشی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز پر حملہ کیا گیا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران معاہدہ کرے اس سے قبل کہ تاخیر ہوجائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے کا وقت آگیا ہے اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجائے اور اب اس میں کچھ باقی نہیں رہا جو کبھی ایک عظیم ملک بن سکتا تھا۔

امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں ایران کے دو شہر تہران اور کاراج کو ملانے والے پل کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے اور لکھا کہ مزید تباہی آنے والی ہے۔

Similar Posts