امریکی انٹیلی جنس کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اس معاملے سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تہران اس اہم بحری گزرگاہ کو امریکا کے خلاف اپنے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کا ماننا ہے کہ دنیا کی تیل کی سپلائی لائن پر اس کا کنٹرول ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پانچ ہفتوں سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جس جنگ کا مقصد ایران کی فوجی طاقت کو ختم کرنا تھا، اس نے الٹا ایران کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھا کر اپنی علاقائی اہمیت منوا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال کو معمولی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ہم تھوڑے ہی وقت میں آبنائے ہرمز کو آسانی سے کھول سکتے ہیں، تیل پر قبضہ کر سکتے ہیں اور اس سے بڑی دولت کما سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پراجیکٹ ڈائریکٹر علی واعظ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کی کوشش میں امریکا نے اسے پوری دنیا کا نظام درہم برہم کرنے والا ہتھیار خود تھما دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران سمجھتا ہے عالمی توانائی کی منڈیوں کو مفلوج کرنے کی اس کی صلاحیت کسی ایٹمی ہتھیار سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔
علی واعظ کے مطابق اس سمندری گزرگاہ کو روکنے کے لیے صرف ایک یا دو ڈرونز ہی کافی ہوتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا راستہ انتہائی تنگ ہے جہاں جہاز رانی کی پٹی صرف دو میل چوڑی ہے، جس کی وجہ سے بحری جہاز اور فوجی دستے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوج ایران کے ساحلی علاقوں پر قبضہ بھی کر لے، تب بھی ایران اپنے ملک کے اندرونی حصوں سے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملے جاری رکھ سکتا ہے۔
سابق سی آئی اے ڈائریکٹر بل برنز نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اس بحری گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو مستقبل میں امریکا کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سیکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے اور جنگ کے بعد ملک کی دوبارہ تعمیر کے لیے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
ان کے بقول یہ صورتحال مذاکرات کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہے۔
ایران کی اس ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جس سے امریکا میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو یقین ہے یہ راستہ جلد کھل جائے گا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیجی ممالک اور نیٹو اتحادیوں کو اس گزرگاہ کو کھلوانے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ان کا مفاد امریکا سے بھی زیادہ وابستہ ہے۔
فی الحال ایران کی جانب سے سویلین جہازوں پر حملوں اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے جیسے ہتھکنڈوں نے اس راستے کو اتنا خطرناک بنا دیا ہے کہ کمپنیوں کے لیے جہازوں کی انشورنس کروانا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔