خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلیوں نے ریلی نکالی اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے جنگ مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے اور ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے مطالبہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران عوام کے جمع ہونے پر پابندی کے باوجود مظاہرین سینٹرل اسکوائر میں جمع ہوئے، جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز تھے، جن میں تحریر تھا بم باری نہیں مذاکرات، نہ ختم ہونے والی جنگ کو ختم کریں۔
اسرائیلی-فلسطینی عوامی گروپ اسٹینڈنگ ٹوگیدر کے شریک ڈائریکٹر ایلون لی گرین نے بتایا کہ پولیس ہماری آواز خاموش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہاں یہ مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہیں کہ ایران، لبنان اور غزہ میں جنگ بند کی جائے، جو اس وقت بھی جاری ہے، اسی طرح مغربی کنارے میں بھی پروگرام کو ختم کیا جائے۔
ایلون لی گرین نے بتایا کہ اسرائیل میں ہمیشہ ایک جنگ ہے، اگر ہمیں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تو ہمیں کبھی بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مظاہرین نے ایران کے ساتھ جنگ کو جائز قرار دینے کے لیے پیش کیے جانے والے جواز پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔
احتجاج میں شریک 60 سالہ سیسل نے نیتن یاہو کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم ان وجوہات کے حوالے سے حیران ہوں، میرے خیال میں بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیبی اپنا ٹرائل روکنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ جاری رکھنے کے لیے جواز ہر وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ فتح یا شکست کا پیمانہ کیا ہوگا اور ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ یہ جنگ کتنے عرصے تک جاری رہے گی۔