ایران کی فضائی حدود میں گرائے گئے امریکی ایف 15 جنگی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کا مشن امریکی عسکری تاریخ کے مشکل ترین اور اعصاب شکن مقابلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس کامیاب آپریشن نے امریکی پائلٹ کو ایرانی حکومت کے لیے ایک سیاسی مہرے یا سودے بازی کا ذریعہ بننے سے بچا لیا ہے۔
امریکی نیوز چینل ’سی این این‘ کے تجزیہ نگار ایلکس پلٹساس کا کہنا ہے کہ یہ مشن دشمن کی سرحدوں کے اندر جا کر اپنے سپاہی کو نکال لانے کی ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
اُن کے بقول اگر یہ پائلٹ گرفتار ہو جاتا تو ایران اسے عالمی سطح پر ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا تھا، لیکن اس کامیاب کارروائی نے ایران کے ان ارادوں کو ناکام بنا دیا۔
فوجی ماہر اور ریٹائرڈ میجر جنرل مارک میک کارلی نے اس مشن کی حساسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جس علاقے میں طیارہ گرا وہ انتہائی دشوار گزار اور پہاڑی تھا جہاں پہنچنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایرانی حکام نے پائلٹ کو پکڑنے والے کے لیے بھاری انعام کا اعلان کر دیا۔
جنرل میک کارلی کے مطابق پائلٹ زخمی تھا اور اس کے پاس کھانے پینے کا سامان اور پانی بھی انتہائی کم تھا، جبکہ دوسری طرف انعام کے لالچ میں مقامی لوگ اور ایرانی فورسز اسے چپے چپے پر تلاش کر رہے تھے۔ ایسی حالت میں پائلٹ نے اپنے پاس موجود ہنگامی سگنل دینے والے آلے کا استعمال کیا جس نے مسلسل ہیڈ کوارٹر کو اس کی لوکیشن کے بارے میں آگاہ رکھا اور یہی اس کی زندگی بچانے کا اہم ذریعہ بنا۔
امریکی سیکیورٹی تجزیہ نگار جم شوٹو نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ لاپتہ پائلٹ نے جمعہ کی دوپہر کو ہی دشمن کے علاقے سے امریکی فوج سے رابطہ کر لیا تھا۔ اس رابطے کے بعد ریسکیو آپریشن کی تیاریاں تیز کر دی گئی تھیں، تاہم پائلٹ کے زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم کو اسے وہاں سے نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس مشن کے دوران امریکی طیاروں نے پائلٹ کی تلاش میں انتہائی کم بلندی پر پروازیں کیں جس کی وجہ سے ان پر زمین سے حملے کا شدید خطرہ موجود تھا۔ اس کے باوجود امریکی کمانڈوز اور فضائیہ نے ہم آہنگی کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
آسٹریلوی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل مک ریان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا پیچیدہ آپریشن دنیا کی کوئی اور فوج شاید ہی کر سکے۔
ان کے مطابق جیسے ہی طیارہ گرنے کی تصدیق ہوئی، امریکی فضائیہ اور اسپیشل فورسز نے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔
جنرل مک ریان کے مطابق، اگرچہ ایرانی حدود میں اڑنا خطرناک تھا، لیکن ایک ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے ایران کا دفاعی نظام کافی حد تک کمزور ہو چکا ہے، جس کا فائدہ امریکی ٹیم کو ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک کی 10 ہزار سے زائد پروازوں میں یہ صرف پہلا جنگی طیارہ ہے جو گرا ہے، جو امریکی فضائی برتری کا ثبوت ہے۔ یہ آپریشن محض ایک فوجی کی واپسی نہیں بلکہ امریکی عسکری طاقت کا ایک بڑا مظاہرہ بھی ہے۔