’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا اظہار خیال

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر نے اپنے طویل قانونی کیس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اندر صبر، استقامت اور انصاف کے تصور کو نئے انداز میں تشکیل دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں علی ظفر نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اُن لوگوں کا شکر گزار ہوں جو آزمائش کے وقت میں میرے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنہوں نے مجھ پر شک کیا، اُن سے کوئی گلہ نہیں، ہم سب سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کو فیصلوں سے زیادہ ہمدردی کی ضرورت ہے۔

طویل عدالتی کارروائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران سب سے بڑا سبق انہیں اپنی اندرونی طاقت کا احساس ہوا۔ صبر، اور ایک ایسی طاقت جس کا آپ کو اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک آپ کو اس کی ضرورت نہ پڑے۔ جب ہر طرف سے فیصلے سنائے جا رہے ہوں تو انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ میں نے سیکھا کہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی اور خود کو ثابت قدم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

علی ظفر کے مطابق عوامی دباؤ اور تنقید کے باوجود خود کو پُرسکون رکھنا اس آزمائش کا سب سے مشکل پہلو تھا، لیکن یہی خاموش استقامت انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔

انہوں نے کہا، ’’آخرکار یہی استقامت آپ کو سنبھالتی ہے۔‘‘

اپنی موجودہ ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ایک طرح کے سکون کا احساس کر رہے ہیں۔
’’میرے لیے اب یہ سب صرف سکون ہے‘‘۔

تاہم انہوں نے جھوٹے الزامات کے وسیع تر اثرات پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جھوٹا الزام کسی شخص کی ساکھ، تعلقات اور زندگی پر حقیقی اثرات ڈالتا ہے، اور انصاف کے تصور میں اس پہلو کو بھی شامل ہونا چاہیے۔‘‘

علی ظفر نے قانونی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر انصاف کو ثبوت اور قانون پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ شور شرابے یا دباؤ پر۔ ’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘ یہ صرف قانونی اصول نہیں بلکہ انسانی اصول بھی ہے۔

انہوں نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ تخلیقی کام کی جانب لوٹنے کے لیے پُرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں دوبارہ تخلیق اور اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں جو ان اصولوں پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سیشن عدالت نے گزشتہ ہفتے گلوکارہ میشا شفیع کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔

Similar Posts