مجتبیٰ خامنہ ای بے ہوش ہیں اور فیصلے ان کی جانب سے نہیں ہو رہے: برطانوی اخبار کا دعویٰ

0 minutes, 0 seconds Read

برطانوی اخبار ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے نئے مقرر کردہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت بے ہوشی کی حالت میں ایران کے شہر قم کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک سفارتی میمو سے حاصل ہوئی ہیں، جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جینس ذرائع کی جانب سے اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

میمو میں بتایا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اسی فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد اور ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو شہید ہوئے تھے۔

میمو کے مطابق شدید زخموں کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت ملک چلانے کے قابل نہیں ہیں اور نہ ہی حکومتی فیصلوں میں حصہ لے پا رہے ہیں۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی شہر قم میں زیرِ علاج ہیں جو دارالحکومت تہران سے تقریباً 87 میل جنوب میں واقع ہے، اور کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہیں۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار ان کے مقام کا تعین کیا گیا ہے۔

۔

میمو کے مطابق امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جینس اداروں کو مجتبیٰ خامنہ ای کے مقام کا پہلے ہی علم ہو چکا تھا، تاہم انہوں نے اس معلومات کو عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا تھا۔

دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی عدم موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ اب تک منظر عام پر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی صحت اور زندگی سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے ساتھ اسی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

۔

تاہم ایرانی حکام نے متعدد بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور ملک کے معاملات چلا رہے ہیں، جبکہ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ وہ 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹی وی پر ان سے منسوب دو بیانات نشر کیے گئے، جبکہ چند روز قبل ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں انہیں ایک وار روم میں داخل ہوتے اور اسرائیل کے شہر ڈیمونا میں واقع جوہری تنصیب کے نقشے کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

Similar Posts