کراچی: اسٹیل ملز میں مہنگی بجلی فراہمی کا معاملہ، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

0 minutes, 0 seconds Read
اسٹیل ملز کے اندر دکانوں کو مہنگے نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں کے الیکٹرک کے نرخوں کے بجائے زیادہ قیمت پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز کے ریٹس میں واضح فرق ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر بجلی کا بل 9 ہزار روپے بنتا ہے تو اس میں 4 ہزار روپے اضافی سروس چارجز کے طور پر وصول کیے جا رہے ہیں جو غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ انہیں کے الیکٹرک کے مقررہ نرخوں کے مطابق بجلی فراہم کی جائے۔

دوسری جانب اسٹیل ملز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2015 سے اسٹیل ملز بند ہے اور درخواست گزار نادہندہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کے الیکٹرک کو کہا ہے کہ وہ درخواست گزاروں کو براہِ راست بجلی فراہم کرے۔

کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی اسٹیل ملز کو بلک میں بجلی فراہم کرتی ہے، آگے اس کی تقسیم اور نرخوں کا تعین اسٹیل ملز کا اپنا معاملہ ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ سروس چارجز کس مد میں وصول کیے جا رہے ہیں اور کیا اس کے لیے الگ لائنیں بچھائی جا رہی ہیں۔

خادم حسین و دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Similar Posts