کراچی میٹرک بورڈ کی نااہلی: ساڑھے 3 لاکھ طلبا کا مستقبل داؤ پر، امتحانات سے قبل ہی بدنظمی کا طوفان

0 minutes, 1 second Read
کراچی ثانوی تعلیمی بورڈ (میٹرک بورڈ) کی انتظامی نااہلی اور افسران کی باہمی چپقلش نے ساڑھے تین لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امتحانات سر پر ہونے کے باوجود بورڈ نہ تو ایڈمٹ کارڈ جاری کر سکا اور نہ ہی امتحانی مراکز (سینٹر فکسیشن) کا معاملہ حل ہو پایا ہے۔

افسران کی لڑائی، طلبا کا نقصان
 

سینئر رپورٹر صفدر رضوی کے مطابق، میٹرک بورڈ کے دو اعلیٰ افسران—چیئرمین بورڈ اور سابق کنٹرولر—کے درمیان سینٹر فکسیشن کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ یہ تنازع اس حد تک بڑھا کہ 16 مارچ کو کنٹرولر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، لیکن نیا کنٹرولر تعینات نہ ہونے کی وجہ سے انتظامات مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ بورڈ کی جانب سے پہلی بار ‘ڈیجیٹل ایڈمٹ کارڈ’ پورٹل کے ذریعے جاری کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا کیونکہ پورٹل تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا اور طلبہ کارڈ ڈاؤن لوڈ کرنے سے قاصر رہے۔

ایڈمٹ کارڈ کا بحران اور امتحانات میں تاخیر
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:

امتحانات میں تاخیر: 10 اپریل (جمعہ) سے شروع ہونے والے امتحانات کو ایڈمٹ کارڈز کی عدم دستیابی کے باعث تین دن کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

بورڈ آفس میں ہنگامہ آرائی: پیر کی صبح ہزاروں کی تعداد میں طلبہ، والدین اور اسکولوں کے نمائندے بورڈ آفس پہنچ گئے جہاں شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔

لاکھوں طلبا اب بھی محروم: تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ طلبا ایسے ہیں جنہیں اب تک ایڈمٹ کارڈ موصول نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ ان کا امتحانی مرکز کون سا ہے۔

نقل مافیا اور پیپر آؤٹ ہونے کا خدشہ

ولاگ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ جب بورڈ انتظامیہ امتحانی مراکز کا تعین کرنے اور ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دینے میں ناکام ہو چکی ہے، تو ایسے میں ‘نقل مافیا’ مکمل طور پر سرگرم ہو چکی ہے۔

کراچی کے وسیع و عریض جغرافیے (ملیر، لانڈھی، کورنگی، اورنگی اور گڈاپ) میں امتحانی پرچوں کی بحفاظت ترسیل ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگرچہ محکمہ جامعات و بورڈز نے پرچوں پر ‘واٹر مارک’ لگانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹر مارک سے پیپر آؤٹ ہونے کے بعد ملزم کی شناخت تو شاید ہو جائے، لیکن پیپر آؤٹ ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔

والدین اور طلبہ میں شدید اضطراب

ماضی میں ہمیشہ امتحانات سے 15 دن قبل ایڈمٹ کارڈز تقسیم کر دیے جاتے تھے، لیکن اس سال امتحانات سے محض دو دن پہلے تک بھی صورتحال واضح نہیں ہے۔ ساڑھے تین لاکھ طلبا اور ان کے والدین اس وقت شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ انتظامیہ پیپر آؤٹ ہونے اور نقل کے رجحان کو روک پائے گی؟ فی الحال بورڈ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور طلبا کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

 

Similar Posts