ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی معاہدہ کیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدہ ہوا ہے لیکن ہمیں حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ2025 کے بعد پاکستان کا اسٹیٹس کافی تبدیل ہوا ہے، جس انداز سے دنیا پاکستان کو دیکھ رہی ہے، امریکا اور یورپ کی پاکستان کی جانب اپروچ تبدیل ہوئی ہے، یہ سب پاکستانی عوام کی یک جہتی، سپورٹ اور افواج پاکستان کی بہادری کی وجہ سے ہوا ہے اور پاکستان کا مکمل اسٹیٹس تبدیل ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، سمجھتے ہیں جنگ نہیں ہونی چاہیے، کل اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ پاکستان اس میں کیا کردار ادا کر رہا ہے، ہم چاہتے ہیں پاکستان بہترین کردار ادا کرے لیکن ہمیں بتائیں تو صحیح کیا مذاکرات ہو رہے ہیں، پاکستان کا کیا کردار ہے اور آپ جو ثالثی کررہے ہیں وہ کس مرحلے پر ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہوا، حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے، بانی پی ٹی آئی نے بھی کہا اور سب نے کہا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ بہت اچھا ہے لیکن ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی معاہدہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، سیاسی سوچ رکھتے ہیں، تحریک بھی چلائیں گے، احتجاج کریں گے اور عدالتوں میں جائیں گے جبکہ ملاقاتیں نہ ہونا افسوس ناک ہے، ہماری ملاقاتیں اکتوبر سے نہیں ہو رہی ہیں اور جنوری سے سارے تشویش کا شکار ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ لوگ دو دو قدم پیچھے ہوجائیں گے لیکن ہمیں ایک انچ کی اسپیس نہیں مل رہی ہے، اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور عوام کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے تو یہ آپ کی غلط سوچ ہے، برائے مہربانی ملک پر رحم کریں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا شکریہ آج انہوں نے ملاقات کا حکم دیا ہے، دیکھتے ہیں کل ملاقات کراتے ہیں یا نہیں، وکیل کی ملاقات کافی نہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی فیملی ملاقات بھی ہونی چاہیے، بہنوں نے یہاں تک کہا کہ ملاقات کے بعد پریس ٹاک تک نہیں کریں گی لیکن یہ بات بھی نہیں مانی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فسطائیت کی ایک بڑی مثال ہے ہمارے خلاف ہرحکم پر عمل درآمد ہوجاتا ہے، پورے پاکستان سے لوگ اظہار یک جہتی کے لیے یہاں آتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آج ملاقات کرائیں، اگلے منگل یہ لوگ نہیں ہوں گے، آپ نے کوشش کی کہ فروری میں تاثر دیا جائے وہ جیل چلا گیا لیکن دوری پیدا نہیں ہوسکی، ایسے ہتھکنڈوں سے بانی کی مقبولیت کم نہیں ہوسکتی بلکہ اس سے نفرت بڑھ رہی ہے اور ملک کےلیے اچھا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا جہاں سے بھی پاکستان پر حملہ ہو آپ آخری حد تک چلے جاؤ، آج آدھا گھنٹے کی ملاقات کراتے تو یہاں کوئی نہ ہوتا، مہنگائی کے دور میں لوگ دور دور سے خود چل کر آتے ہیں ہم نے کسی کو بھی کال نہیں دی، لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ بانی سے ملاقات نہ ہونا زیادتی ہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی پر کوئی تحفظات نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی جب فیصلہ کرلیں تو پارٹی اس کو قبول کرتی ہے، علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی نے تحریک چلانی ہے یا جو کرنا ہے یہ ان کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس بانی کی تحریری ہدایات آئی تھیں جو علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان ہدایت کریں گے پارٹی اس پر عمل کرے گی، میرا خیال تھا کہ جلد حالات تبدیل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے بعد اسمبلی کے سیشن میں محمود خان اچکزئی صاحب نے شرکت کی ہے، امید ہے کہ ہم بہتری کی طرف جائیں گے، اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر پارٹی تنقید نہیں کررہی بلکہ پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے، اتحاد کے پلیٹ فارم سے کل ان کے ساتھ ہماری دوبارہ میٹنگ ہے جس میں اہم فیصلے ہوں گے اور یہ میٹنگ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ہوگی۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ محمود اچکزئی اور ناصر عباس جیسے آگے بڑھیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جلسے کا اعلان کیا جو کہ رجیم چینج پر تھا، ہم نے این او سی کے لیے اپلائی کیا اور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی فائل کر دی ہے، ہم لوگوں سے کہیں گے کہ وہ جلسے میں ضرور شرکت کریں اور ہمیں حکومت جہاں روکے گی ہم وہی جلسہ کریں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور عوام کے درمیان ہم سمیت کوئی حائل نہیں عوام بانی کے ساتھ ڈائریکٹ الائن ہے، احتجاج، تحریک، پارلیمان اور عدالتیں سب کچھ ٹیبل پر ہے، ہم نے اسی لیے عدالتوں کو کہا ہماری سنیں اور بانی کی سزاؤں کی معطلی پر اپنا حکم جاری کریں، تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

Similar Posts