ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز پر ٹول ٹیکس؛ ادائیگی کرپٹو کرنسی میں

0 minutes, 0 seconds Read
ایران نے دنیا میں تیل کی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز پر ایک ڈالر فی بیرل ٹول ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب اب ہر بڑے آئل ٹینکر سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ ڈالر تک ٹول فیس وصول کر رہی ہے۔

رپورٹ کے بقول اندازہ ہے کہ فی بیرل تقریباً 1 ڈالر کے حساب سے چارج لیا جا رہا ہے اور ایک بڑے ٹینکر تقریباً 20 لاکھ بیرل کے لیے یہ 2 ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

تاہم ٹول فیس کا انحصار جہاز کے ملک، کارگو اور ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی ہوتا ہے جس کے لیے ایران روایتی ڈالر سسٹم سے ہٹ کر ادائیگی کے لیے نئے طریقے استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ٹول ٹیکس چینی کرنسی یوآن کرپٹو کرنسی جیسے بٹ کوائن یا اسٹیبل کوائنز جیسے USDT  وغیرہ میں موصول کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادائیگی کا یہ طریقہ کار امریکی پابندیوں سے بچنے اور عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کے اثر کو کم کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں گزرنے کے لیے محدود رسائی دی ہے جن میں چین اور بھارت کے علاوہ کچھ خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں امریکا اور اس سے منسلک مغربی ممالک کے جہازوں کو پہلے پاسداران انقلاب سے منظوری لینا ہوتی ہے جس میں جہاز کی ملکیت، کارگو تفصیل، عملے کی معلومات اور ٹریکنگ ڈیٹا جمع کروایا جاتا ہے۔

پاسدران انقلاب کی منظوری کے بعد جہاز کو ایک خفیہ کوڈ دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ایک مخصوص راستہ بتایا جاتا ہے جو اکثر ایران کے ساحل کے قریب ہی ہوتا ہے اور پاسداران انقلاب کی کشتیاں جہاز کو بحفاطت گزارتی ہیں۔ 

کچھ رپورٹس کے مطابق کئی کمپنیوں نے جہازوں کی رجسٹریشن تبدیل کر کے پاکستانی یا دیگر ممالک کے جھنڈے استعمال کیے تاکہ اجازت حاصل کی جا سکے تاہم آزاد ذائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ یہ نظام 28 فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سامنے آیا جب ایران نے اس گزرگاہ کو تقریباً بند کر دیا تھا:

جس کے باعث اس آبی گزرگاہ سے ٹینکر ٹریفک میں 97 فیصد کمی آئی ہے۔ اس راستے عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس سپلائی کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگر یہ نظام مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو ایران کو سالانہ 70 سے 80 ارب ڈالر تک آمدن ہو سکتی ہے۔

 

 

Similar Posts