جنگ بندی مذاکرات سے قبل ہماری 2 شرائط پوری ہونا ابھی باقی ہیں: ایران

0 minutes, 14 seconds Read
اسلام آباد امن مذاکرات میں امریکا کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی سربراہی ممکنہ طور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر مذاکرات کل سے اسلام آباد میں شروع ہونے جا رہے ہیں جس کے لیے نائب امریکی صدر روانہ ہوچکے ہیں۔

ایران وفد کی پاکستان آمد کل متوقع ہے تاہم اس سے قبل ممکنہ چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دو شرائط رکھ دیں۔

محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان طے پانے والے 2 اقدامات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

Two of the measures mutually agreed upon between the parties have yet to be implemented: a ceasefire in Lebanon and the release of Iran’s blocked assets prior to the commencement of negotiations.

These two matters must be fulfilled before negotiations begin.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026

انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد کیے گئے اثاثوں کی بحالی ہیں اور یہ دونوں وعدے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے پورے ہونے چاہیئے۔

ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ مذاکرات سے قبل لبنان میں فوری جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی لازمی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق محمد باقر قالیباف کا یہ بیان مذاکرات سے ایک قبل آنا اہم موڑ ہے کیوں کہ وہ ممکنہ طور پر ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔

 

Similar Posts