معمول یہ تھا کہ روزانہ صبح سر پر قلم رکھ کر سلورکلر کی پرانی ویسپا اسکوٹر پرگھر سے نکلتے، تو رات گئے شہر کی تمام سیاسی، غیر سیاسی محفلیں بھگتا ہی کے واپس لوٹتے۔ وہ اور ان کی ویسپا ہر وقت ہوا کے دوش پر نظر آتے، دفتر اورگھر کے آس پاس سمن آباد کی سڑکوں پر، گلبرگ علی زیب روڈ پر، ’نوائے وقت‘ کے مقابل کوئنز روڈ سے گزرتے ہوئے، مال روڈ پر رواں دواں، اورکبھی اس حال میں کہ سڑک کنارے کھڑے ہیں، پسینہ سے شرابور، اسکوٹر کو کک پرکک مار رہے ہیں، اس مشق کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا، تو اسکوٹر کی بغل سے کٹ نکال کر پلگ کا کچرا صاف کرتے، اسے دوبارہ فٹ کرتے، چہرے سے پسینہ پونچھتے، اور فیضؔ صاحب کا کوئی شعرگنگناتے ہوئے پھر سے عازم سفر ہو جاتے۔ وہ اپنے محبوب شاعر کی اداکار محمد علی کے گھر کی چھت پر ہونے والی مسحورکن شبانہ محفلوں سے بھی فیض یاب ہو چکے تھے، بلکہ ان کے خوابناک اثرات اب تک ان کی شخصیت پر موجود تھے، وہی ٹھیرا ٹھیرا لہجہ، سوئی سوئی مخمور دھیمی آواز اور رومانی طبع،’ زندگی جزوِ خواب ہے گویا، ساری دنیا سراب ہے گویا‘۔ منیرؔ نیازی سے بھی ان کا ملنا جلنا تھا۔ ایک بار ان کے گھر گئے، تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ اس خوب صورت ملاقات کی اب صرف ایک دھندلی سی یاد باقی رہ گئی ہے۔
پرویز حمید صاحب ایسے باغ و بہار آدمی تھے کہ ان کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہر طرف خوشگوار ہلچل مچ جاتی۔ چپڑاسی سے لے کر چیف ایڈیٹر تک سبھی سے ان کا دوستانہ تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب جنرل ضیاء کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیراعظم بنی تھیں۔ پرویز حمید، بھٹو صاحب کے پرستار، بلکہ دیوانے تھے۔ اس نسبت سے پیپلزپارٹی کے راہنماؤں اور وزیروں سے ان کی کافی شناسائی تھی۔ چنانچہ، دفتر میں جس کسی کو سرکاری دفتر میں کوئی کام ہوتا، تو انھی سے رجوع کرتا تھا۔ کچھ دنوں میں، مجھے بھی ان کی برادرانہ شفقت حاصل ہو گئی۔
ایک روز مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے، جو دفتر کے قریب ہی تھا، اور شاید ان کے بچوں کا ننھیال بھی تھا۔ مجھ سے اپنے بچوں ارشد، عادل اور شائستہ کا تعارف کرانے کے بعد، جو ان دنوں اسکول میں پڑھتے تھے،کہا،’’ آج سے یہ تینوں آپ کے شاگرد ہیں۔‘‘ چنانچہ، اس کے بعد روزانہ دفتر سے چھٹی کے بعد ان کے گھر جانا ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ بھی انھی کی طرح خوش اخلاق، خوش گفتار اور مہمان نواز ہیں۔ ایک روز ان سے ملنے گیا، تو دیکھا کہ نیوز روم میں سرجھکائے خبروں کی ایڈیٹنگ میں مصروف ہیں۔ چائے کا آرڈر دے کر انھوں نے رسیور رکھا ہی تھا کہ چار پانچ بپھرے ہوئے سب ایڈیٹر اندر داخل ہوئے اور آتے ہی پھٹ پڑے، ’’ پرویز صاحب، یہ ناانصافی ہے، فلاں فلاں کو کب کی تنخواہ مل چکی، جب کہ ہمیں مسلسل ٹرخایا جا رہا ہے۔
جب ہمیں نہیں ملی تو ان کو کیوں ملی؟ ‘ مجھے یاد ہے، اس آخری جملہ پر انھوں نے سر اٹھایا، عینک اتار کے میز پر رکھی، اور قدرے سرزنش کے انداز میں کہا، ’’بندہ پرور، تنخواہ تو مجھے بھی نہیں ملی، مگر دیکھو، یہ مت کہو کہ فلاں کو کیوں ملی، یہ کہو کہ ہمیں بھی ملنی چاہیے۔‘‘ ’بندہ پرور‘ ان کا تکیہ کلام تھا۔ یہ تھے پرویز حمید، تسلیم ورضا کے پیکر، سب کا بھلا، سب کی خیر چاہنے والے۔ان کی صحافت کا آخری دور ’نوائے وقت‘ میں گزرا، بلکہ کچھ عرصہ وہ میرے ساتھ ہی میگزین روم میں بیٹھتے رہے، اور سنڈے میگزین کے لیے باقاعدگی سے لکھتے بھی رہے۔ اس زمانے میں، انھی کے ہمراہ اداکار محمد علی سے پہلی ملاقات ہوئی۔
ان کے گھر جاتے ہوئے اچھی خاصی’ فلمی صورتحال‘ پیدا ہوگئی۔ سخت گرمی، دو سوا دو بجے کا عمل، ان کے اسکوٹر پر ہم دفتر سے روانہ ہوئے۔ تھوڑا آگے جا کر، جب انھوں نے ایک دوبار سرکو زور سے جھٹکا، تو میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ نیندکے ساتھ ان کی آنکھ مچولی شروع ہو چکی تھی۔ مین مارکیٹ کے پاس سڑک پر مجھے موبل آئیل گرا ہوا نظر آیا۔ میں نے چیخ کر کہا، پرویز صاحب، آگے، موبل آئیل، مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔ انھوں نے بریک لگائی تو اسکوٹر موبل آئیل کے عین اوپر تھا۔ یکدم بریک لگنے سے اسکوٹر کے پہیے جو پھسلے، تو وہ ہمارے نیچے سے نکل کر گھسٹتا ہوا فٹ پاتھ کی طرف جا رہا تھا، اور پیچھے پیچھے پرویز حمید اور میں بھی۔ قسمت اچھی تھی کہ عقب سے کوئی تیز رفتارگاڑی نہیں آ رہی تھی۔
گرنے سے چوٹیں تو آئیں اور کچھ راہگیر ہماری مدد کو بھی لپکے، مگرہم فلمی انداز میںکپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔’بندہ پرور، بریک تو لگائی تھی‘، انھوں نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ مجھے لگا، علی بھائی کے گھر پہنچنا اب مشکل ہے، مگر ان کے جی میں نجانے کیا آیا کہ ایک دم اسکوٹر اٹھایا، اورکک لگاتے ہوئے کہا،علی بھائی کا گھر زیادہ دور نہیں، چلتے ہیں‘ ، اورکچھ ہی دیر میں ہم علی بھائی کے عالی شان ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ انھیں پتا چلا کہ ہم ایک حادثہ سے بال بال بچے ہیں، تو کہا کہ’ آج یہ انٹرویو رہنے دیتے ہیں۔‘ پرویز حمید مسکرائے، مگرکچھ بولے نہیں، بس ان کی طرف ایک ٹک دیکھتے رہے۔ اس پر علی بھائی کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں، ’’زمانہ بدل گیا، مگرآپ نہیں بدلے حمید صاحب۔‘‘
آج پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں، تو سوچتا ہوں کہ یہ سارا وقت کتنی خاموشی سے گزر گیا۔ انھیں آخری بار اس طرح دیکھا کہ پریس کلب کے باہر انتخابی پنڈال میں ایک کرسی پرگم صم بیٹھے ہیں۔ کہنے لگے، فالج کے حملہ کے بعد گھر سے کم ہی نکلتا ہوں۔ ادھر ادھر گھوم کے دوبارہ انھیں دیکھنے کو جی چاہا، مگر واپس آیا تو ان کی کرسی خالی تھی۔ پھر خبر ملی کہ گھر میں پھسلے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی پر زخم آیا ہے۔ چند روز بعد ارشد کا دوسرا ایس ایم ایس آیا، تو اس میں ان کے جنازے کا وقت اور مقام درج تھا۔ـ یہ علامہ اقبال ٹاؤن میں ان کے کسی عزیز کا گھر تھا، جس کے بیرونی صحن میں ایک چارپائی پر پڑے ابدی نیند سو رہے تھے۔ ایک لحظہ کے لیے لگا کہ ابھی کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے، مگر نہیں ۔ اس روز ان کو الوداع کہنے کے لیے سبھی آئے تھے، سوائے ان کے، جن کے مسخ شدہ سیاسی چہرے صاف کرنے، تراشنے، سنوارنے اور نکھارنے کے لیے وہ عمر بھر قلم کی مزدوری کرتے رہے۔ شاعر نے کہا تھا،
حافظؔ ابنای زمان را غم مسکینان نیست
زین میان گر بتوان بہ کہ کناری گیرند