نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔
امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔
امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔
امریکی حکام کے بقول بارودی سرنگیں نہ ہٹائے جانے کے باعث ہی تاحال آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے بند ہونے کے باعث نہ صرف تیل کی قلت ہے بلکہ ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
دہائیوں کا سب سے بڑے اس توانائی بحران کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے اور دنیا میں معیشت کو اسی مشکلات کا سامنا ہے جیسا کورونا وبا کے دوران رہا تھا۔