پشاور میں ایک مغوی اہلکار کا قتل، 24 گھنٹے میں دوسرا اہلکار اغوا

0 minutes, 0 seconds Read
پشاور میں چوبیس گھنٹوں کے دوران دوسرے پولیس اہلکار کو قبائلی سرحد کے قریب اغوا کرلیا گیا جو کہ حسن خیل پولیس تھانے کا اہلکار تھا۔

 ذرائع کے مطابق گاؤں کے راستے میں نامعلوم افراد نے اسے اغوا کیا جبکہ اس سے قبل ہفتے کے روز بھی نواحی علاقےحسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے  پولیس جوان کو مبینہ طور پر اغوا کیا اور فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔

خدشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ انہیں مبینہ دہشت گردوں نےشہید کیا ہے۔ سی ٹی ڈی اور پولیس ٹیموں نے کیس کی تفتیش شروع  کردی ہے ۔ گزشتہ روز تھانہ حسن خیل کی حدود ایف آر پشاور میں نامعلوم افراد نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس کانسٹیبل مقتدر خان ، نامعلوم مسلح افراد نے مقتدر  پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پرہی جامِ شہادت نوش کرگیا۔

 واقعے کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے،بعد ازاں شہید مقتدر خان کی نمازجنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، کمانڈر 102 بریگیڈ بریگیڈیئر مبشر، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، پاک فوج کے اعلیٰ حکام، ڈویژنل ایس پیز اور پولیس افسران سمیت جوانوں اور لواحقین نے شرکت کی۔

اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدخاکی کو سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر خان جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، انہوں نے عزم دہرایا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث عناصر کو بہت جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

Similar Posts