’چار ڈالر فی گیلن پیٹرول کو بھی یاد کرو گے‘، امریکی ناکہ بندی پر ایران کا ٹرمپ پر طنز

0 minutes, 5 seconds Read

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی سمندری راستوں پر پابندی لگانے کی امریکی دھمکی خاص طور پر پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے خود امریکا کے لیے مہنگی پڑ سکتی ہے۔

قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے اعلان کیا کہ وہ آج رات سے ایران سے منسلک بحری آمد و رفت پر ناکہ بندی نافذ کرنے کا آغاز کرے گی، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے سے متعلق امریکی انتباہ کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام الٹا امریکی عوام کے لیے معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس کے قریب پیٹرول کی قیمتوں کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور خبردار کیا کہ موجودہ قیمتیں جلد ہی لوگوں کو سستی محسوس ہونے لگیں گی۔

اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ موجودہ پیٹرول کی قیمتوں سے لطف اٹھائیں، اور خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکی عوام جلد ہی فی گیلن 4 سے 5 ڈالر کی قیمتوں کو یاد کریں گے۔

قالیباف نے اپنے پیغام میں ایک پیچیدہ ایکویشن بھی شیئر کی ”O_BSOH > 0 f(f(O)) > f(O)“ جسے سوشل میڈیا صارفین نے ان کے انجینئرنگ پس منظر کی عکاسی کرنے والا طنزیہ انداز قرار دیا۔

اس میں ’BSOH‘ سے مراد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے، جبکہ ’O_BSOH > 0‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناکہ بندی کے اثرات میں اضافہ تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالے گا۔

یہ ایکویشن اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی ابتدائی دھچکے پر عالمی منڈی کا ردعمل (f(O)) بعد کے اثرات (f(f(O))) کے ذریعے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔

سادہ الفاظ میں آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھانے سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ اس کے اثرات تسلسل کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں کو موجودہ سطح 4 سے 5 ڈالر فی گیلن سے کہیں زیادہ لے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے بعد واشنگٹن ایران سے منسلک بحری آمد و رفت کے خلاف وسیع پیمانے پر ناکہ بندی لگائے گا۔

صدر ٹرمپ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ یہ ناکہ بندی آج رات سے نافذ العمل ہوگی۔ اس کارروائی میں ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی تنصیبات، خصوصاً خلیج عرب اور خلیج عمان کے علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

Similar Posts