ٹرمپ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ، ہنگری میں حکومت تبدیل

0 minutes, 0 seconds Read

ہنگری میں ایک بڑا اور تاریخی انتخابی نتیجہ سامنے آیا ہے جہاں عوام نے 16 سال سے اقتدار میں موجود ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کو اقتدار سے باہر کر دیا۔ وکٹر اوربان کی جماعت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس غیر متوقع نتیجے میں ووٹرز نے ان کی آمرانہ پالیسیوں اور سخت دائیں بازو کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے یورپ نواز رہنما پیٹر میجیار کو کامیاب بنا دیا۔

کینیڈین ویب سائٹ سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پیٹر میجیار جو پہلے وکٹر اوربان کے حامی بھی رہ چکے ہیں، نے اپنی انتخابی مہم میں بدعنوانی کے خاتمے، بہتر صحت کی سہولیات اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے عوامی مسائل کو خاص طور پر اجاگر کیا۔

وکٹر اوربان نے اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی اور اپنے حریف پیٹر میجیار کو کامیابی پر مبارکباد دی۔

انتخابات میں کامیابی پر اپوزیشن رہنما پیٹر میجیار ہنگری کا پرچم لہراتے ہوئے جشن منا رہے ہیں: تصویر رائٹرز
انتخابات میں کامیابی پر اپوزیشن رہنما پیٹر میجیار ہنگری کا پرچم لہراتے ہوئے جشن منا رہے ہیں: تصویر رائٹرز

پیٹر میجیار نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہنگری کے تعلقات کو یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ دوبارہ بہتر کریں گے، کیونکہ اوربان کے دور میں یہ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ یورپی رہنماؤں نے بھی انہیں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ میجیار کی ٹِسزا پارٹی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کر پائے گی یا نہیں، جس سے وہ اکیلے حکومت بنا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق 93 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک ٹِسزا پارٹی کو 53 فیصد سے زائد ووٹ ملے، جبکہ وکٹر اوربان کی جماعت فیدیز کو 37 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ٹِسزا پارٹی ہنگری کے 106 میں سے 94 حلقوں میں کامیابی حاصل کرتی نظر آ رہی ہے، جو ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔

Similar Posts