پوپ پر تنیقد: امریکا میں ٹرمپ مخالف نئے طوفان کا خدشہ

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم کے درمیان ایران کی جنگ اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے حالیہ بیان اور پوپ کے امن سے متعلق مؤقف کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پوپ لیو چہارم کی خارجہ پالیسی سے متعلق رائے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوپ کے مؤقف سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کے مطابق پوپ کی پالیسی ’انتہائی کمزور‘ ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے پوپ کا مؤقف ایک ایسے ملک کے حق میں سمجھا جا رہا ہے جس پر عالمی سطح پر سنگین الزامات عائد ہیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب پوپ لیو چہارم نے ایران کے خلاف امریکی جنگی بیانات پر تشویش کا اظہار کیا اور جنگ بندی سے قبل سخت بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

پوپ نے اپنے بیان میں امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق جنگ کو جواز نہیں دیا جا سکتا اور عالمی رہنماؤں کو امن کے راستے پر آنا چاہیے۔



اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں پوپ کی قیادت اور خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف ویٹیکن کا مؤقف سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ویٹیکن کے ایک اعلیٰ عہدیدار فادر انتونیو سپاڈارو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پوپ ایک اخلاقی اور امن کی آواز ہیں جنہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق پوپ کا مؤقف طاقت یا مفاد کے بجائے امن، انسانیت اور عالمی ہم آہنگی پر مبنی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع کے اثرات امریکی داخلی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ امریکا میں کیتھولک ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو اس صورتحال کو حساس انداز میں دیکھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویٹیکن اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات میں بھی تناؤ کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

Similar Posts