وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں واپس جانے والے افغان مہاجرین کو سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں لنڈی کوتل میں دوسرا ہولڈنگ کیمپ قائم کرنے، موجودہ کیمپ میں سہولیات بہتر بنانے، نادرا کاؤنٹرز 22 سے بڑھا کر 40 کرنے، خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات، اوقات کار رات 11 بجے تک بڑھانے اور اضافی سہولیات فراہم کرنے کے فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ افغانستان میں پھنسے ایک ہزار افراد کو لانے کے لیے افغان قونصلیٹ سے رابطہ کرلیا گیا ہے ابتدائی طور پر چھ سو افراد کو لانے کے لیے فہرست افغان قونصلیٹ کے حوالے کردی گئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کیمپ میں رش کم کرنے کے لیے مختلف اضلاع میں رجسٹریشن مراکز قائم کرنے جبکہ مہاجرین کو خوراک، پانی اور سیکیورٹی کی مکمل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سینٹرل جیل پشاور میں فارن ایکٹ کے تحت قید 318 افغان شہریوں کو فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جائے گا جس کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نادرا، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنر قبائلی ضلع خیبر کو کل لنڈی کوتل کا دورہ کرنے اور مہاجرین کی واپسی میں سہولیات کے ساتھ تیزی لانے اور الگ ہولڈنگ کیمپ قائم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اجلاس میں افغان قونصلر جنرل حافظ محب اللہ، صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری، ڈائریکٹر جنرل نادرا خالد عنایت اللہ، ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کیپٹن (ر) بلال راؤ سمیت نادرا، ٹیسکو، جیل خانہ جات، محکمہ داخلہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔