عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے خصوصی پیغام میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت نام نہاد “گریٹر اسرائیل” منصوبے پر عملدرآمد کی کوشش کر رہی ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ اور پڑوسی ممالک جیسے اردن، لبنان، شام اور مصر کے بعض حصوں کو گریٹر اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
نعیم قاسم نے شکوہ کیا کہ سفارتی کوششیں اب تک کوئی مؤثر نتائج نہیں دے سکیں۔ حزب اللہ کے جنگجو اس وقت خطے میں ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اسرائیل مسلسل لبنان پر حملے کر رہا ہے اور جنوبی علاقوں میں پیش قدمی کر رہا ہے جس کے لیے صیہونی ریاست کو امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان کی سرزمین کا ایک میٹر بھی کم نہیں ہونے دیا جائے گا اور اسرائیل کا جنوبی لبنان میں بفر زون بنانے کا منصوبہ ناکام ہوگا۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل سرحدی دیہات میں عمارتیں گرا کر ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بے گھر ہونے والے شہریوں کی واپسی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کسی بھی جنگ بندی یا کشیدگی کے خاتمے کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب دوبارہ تعمیر کیا جائے گا یہ سب لبنان کی سرزمین ہے اور لبنان کا ایک میٹر بھی کسی کو نہیں دیا جائے گا۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو بے سود قرار دے دیا ہے۔
اپنے خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی طرف لے جانے کا کسی کو حق نہیں جب تک ملک کے اندر تمام فریقین کے درمیان اس پر اتفاقِ رائے نہ ہوجو کہ فی الحال موجود نہیں ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کے صدر جوزف عون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل لبنانی عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ پہلے سب کو مل کر جارحیت کا مقابلہ کرنا چاہیے اس کے بعد ہی ملک کے مستقبل اور دیگر معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔