ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ پاکستان سے قبل واشنگٹن میں غیر معمولی سیاسی ہم آہنگی

0 minutes, 0 seconds Read
واشنگٹن ڈی سی میں ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں ڈیموکریٹک رہنما عائشہ خان اور ریپبلکن رہنما ڈاکٹر ساجد تارڈ  ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آئے۔

یہ غیر معمولی منظر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ پاکستان سے متعلق قیاس آرائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے خصوصی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اگر یہ دورہ ممکن ہوتا ہے تو اس کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات اور اعلیٰ سطح کی سفارتی ہم آہنگی ناگزیر ہوگی۔

 ڈاکٹر ساجد تارڈ کا کہنا تھا کہ یہ دورہ نہ صرف علامتی اہمیت کا حامل ہوگا بلکہ اس کے ذریعے دفاع، انسداد دہشت گردی اور دوطرفہ تعاون کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔

دوسری جانب عائشہ خان نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی اعلیٰ سطحی دورے کی کامیابی کے لیے ادارہ جاتی تعاون اور خطے میں استحکام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

گفتگو کے دوران ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی زیر بحث آئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال نہایت حساس ہے اور پاکستان ایک مثبت اور تعمیری سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔

عائشہ خان نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتکاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا، ڈاکٹر ساجد تارڈ نے مضبوط حکمت عملی اور واضح پالیسی کی اہمیت اجاگر کی

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ تنازع کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے اس لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔

روایتی سیاسی اختلافات کے برعکس انہوں نے اہم عالمی معاملات پر سیاسی تقسیم کو کم کرنے اور خصوصاً پاکستان سے متعلق معاملات میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

Similar Posts