پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت، حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت مل گئی، جس کے بعد ایکسپورٹ کا حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے ماہی گیری کے شعبے میں تاریخی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار پاکستانی مچھلی اور سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 16 کمپنیوں کو روس کو مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے ملکی برآمدات کے نئے دروازے کھلیں گے۔

جنید انوار چوہدری کے مطابق روسی مارکیٹ کے بعد یوریشین اکنامک یونین کے دیگر ممالک تک رسائی بھی متوقع ہے، جس سے پاکستان کے سی فوڈ سیکٹر کو مزید وسعت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ سی فوڈ برآمدات کے لیے بین الاقوامی معیار کو یقینی بناتا ہے، جو عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سالانہ سی فوڈ برآمدات 500 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ روسی مارکیٹ میں داخلے کے بعد یہ برآمدات 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

وزیر بحری امور کے مطابق روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر 300 ملین ڈالر آمدن متوقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگی۔

جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ سی فوڈ برآمدات کے لیے سمندری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ ایک کم لاگت تجارتی راہداری قرار دیا گیا ہے۔ قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی مچھلی کی بڑی طلب موجود ہے، جو برآمدی مواقع کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی گرم پانی کی مچھلیاں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کر سکتی ہیں۔ وزیر بحری امور نے اس امید کا اظہار کیا کہ بہتر انفرا اسٹرکچر اور عالمی معیار پر عملدرآمد سے سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

Similar Posts