عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو دی گئیں تمام ہدایات کالعدم کر دیں۔
جسٹس عامر فاروق نے اکثریتی تحریری فیصلہ جاری کر دیا جبکہ جسٹس علی باقر نجفی نے اضافی نوٹ بھی جاری کیا۔ تحریری فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت کو نظرثانی کے لیے افسر مقرر کرنے کا حکم سو موٹو قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نجی درخواست گزار اپنی شکایات کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں، ہائیکورٹ کے پاس اپنے طور پر کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ہے، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات ایگزیکٹو کا خصوصی اختیار ہیں لہٰذا عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
اکثریتی تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنا چاہتی ہے، اگر عدلیہ تجارت سے متعلق احکامات دے گی تو یہ اختیارات سے تجاوز ہوگا، پڑھنے کا حق بنیادی حق ضرور ہے مگر یہ ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت پابندیوں کے تابع ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں لکھا کہ آئین پاکستان ایک ’’ارتقاء پذیر آئینی دستاویز‘‘ ہے جو بدلتے وقت کے ساتھ نئے حقوق کی تشریح کر سکتی ہے۔
آئینی عدالت نے لکھا کہ آرٹیکل اے 25 کے تحت مفت تعلیم کا حق صرف اسکول اور کالج کی حد تک ہے، بھارت سے قانون کی کتابیں سستی ملتی ہیں مگر خارجہ پالیسی کی وجہ سے ان پر پابندی برقرار رہے گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت پڑھنے کے حق کو بنیادی انسانی حق قرار دے دیا۔ تحریری فیصلے میں لکھا کیہ پڑھنے کا حق زندگی کے حق سے جڑا ہوا ہے جو انسانی ذہن کو حقیقت اور تاریخ سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔
لاہور کے نجی بک ہاؤس نے بھارت سے قانون کی کتابیں منگوانے کی اجازت مانگی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق بھارت سے قانون کی کتابیں سستی ملتی ہیں اور وہاں کا قانونی نظام پاکستان سے مماثلت رکھتا ہے۔
وفاقی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت سے ہر قسم کی تجارت اور درآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو کتابوں کی درآمد پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق علم پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اور حکومت اس معاملے میں نرمی برتے۔ وزارتِ تجارت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔