ایف آئی آر میں مدعی نے موقف اپنایا کہ والدہ نے عزیز اللہ سے دوسری شادی کی، بھائی دانش اکرم نے سوتیلے والد کی بہن سے پسند کی شادی کی تھی، بھائی کی پسند کی شادی کا لڑکی کے بھائیوں نذیر، نجیب اور عزیز اللہ کو رنج وغصہ تھا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق بھائی کو دعوت کے بہانے گھر بلایا گیا، بھابھی پہلے سے بھائی عزیز اللہ کے گھر تھی، رات بھر بھائی کے واپس نہ آنے پر عزیز اللہ کے گھر گئے، عقبی دروازے سے نجیب اور نذیر چھری اٹھائے فرار ہو رہے تھے، ملزمان کو روکنے کی کوشش پر انھوں نے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
عامر کے مطابق گھر داخل ہونے پر بھائی دانش اکرم، والدہ شہلا بی بی، بھابھی سیما گل کی لاشیں پڑی تھیں۔ ملزمان نے تینوں کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹ کر قتل کیا، ملزمان نے بہن کی پسند کی شادی کے عناد پر تینوں کو قتل کیا تھا۔
پولیس تاحال کیس میں کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔