امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ پینٹاگون کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا کہ چین ایران کو جدید ریڈار سسٹم فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
حکام نے کہا کہ زیر غور نظاموں میں ایکس بینڈ ریڈار ٹیکنالوجی شامل ہے جو ایران کی کم اڑنے والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہے اور جدید حملوں کے خلاف اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا کوئی منتقلی ہوئی ہے، لیکن اس نشاندہی سے امریکا کی بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی ہوتی ہے کہ یہ تنازع عالمی طاقتوں کو بالواسطہ فوجی امداد کے راستے کھول سکتا ہے۔
مزی برآں امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی پوزیشنوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات ایران کو شیئر کی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے جس کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائی کی اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔