زنجیریں اب لوہے کی نہیں، ہندسوں کی ہوتی ہیں

0 minutes, 0 seconds Read
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے کمروں میں جب اکیاسی ہزار ارب روپے قرضوں کے ہندسے گونجے تو ایسا معلوم دے رہا تھا کہ یہ قرضے کوئی ریاضیاتی اکائی نہیں یہ اس باری زنجیر کی لمبائی ہے جو ہندسوں کی ہے اور گلگت کی چوٹیوں سے لے کر کراچی کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ اکیاسی ہزار ارب روپے ایک ایسا پہاڑ ہے جس کے سائے میں ہر پاکستانی بچہ اپنی پہلی سانس لیتے ہوئے تین لاکھ 25 ہزار روپے کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

اگر دنیا میں آنے سے پہلے اختیار دیا جاتا تو شاید اپنے جنم سے ہی انکاری ہو جاتا کہ یہ کیسی آزادی ہوگی کہ دنیا میں جاتے ہی قرضوں کی غلامی میں بدل جائے گی۔ دوسری طرف واشنگٹن کے شیشے کے محلوں میں بیٹھے آئی ایم ایف کے منصف ہیں جو اپنی قلم کی ایک جنبش سے ہماری تقدیر کا نصاب لکھتے ہیں۔ اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات کا قبلہ درست نہ کیا تو تاریخ ہمیں ایک ایسے ملک کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے آپ کو قرضوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہو۔ کیونکہ اس کائنات میں کچھ اعداد ایسے ہوتے ہیں جو محض حساب کتاب کی کتابوں میں قید نہیں رہتے بلکہ وہ زندہ حقیقتیں بن کر ہمارے خوابوں کا تعاقب کرتے ہیں۔

یہ بات بھی عجیب ہے کہ ہر شہری سوا تین لاکھ کا مقروض ہے اور آنے والا بچہ بھی اس ملک کے قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا پیدا ہوگا۔ اس بچے کو کیا خبر کہ اس کا مستقبل اس کے پیدا ہوتے ہی ابھی وہ دنیا کو آنکھیں کھول کر دیکھ ہی رہا ہوتا ہے کہ اس کی معصوم پیشانی پر سوا تین لاکھ روپے قرض کی لہریں جیسے ہی ثبت کر دی جاتی ہیں تو وہ رونے لگ جاتا ہے۔ بہرحال پیدا ہونے کے بعد بچے روتے تو ہیں اگر ابھی مقروض ہونے کے باعث نہ روئے تو بعد میں تو روئیں گے سب کے ساتھ مل کر۔

ایک اور عجیب بات پڑھنے میں آ رہی تھی کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے 3 سو ارب روپے کا قرض لے کر اسے استعمال کیے بغیر اس کا سود بھر رہی ہے، اگر آج ہم نے قرضوں سے نجات حاصل کرنے کی تدبیر نہ کی، قرض کے اس کشکول کو توڑ کر اپنے وسائل پر بھروسہ نہ کیا تو تاریخ کے صفحات پر ہمارا ذکر ایک ایسی قوم کے طور پر ہوگا جس نے اپنی بقا کا سودا چند ڈالروں کے عوض کر دیا تھا۔ یہاں پر وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے اور ہر سیکنڈ کے ساتھ اس قرض کے سود کا ہندسہ بڑھ رہا ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کے حکام کے مطابق قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ مسلسل بڑھتا ہوا مالی خسارہ ہے جسے پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ کمیٹی نے معاشی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ابھی ہم آئی ایم ایف کے ساتھ 37 ماہ کے طویل مدتی پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ مارچ 2026 میں ہی آئی ایم ایف مشن کے تیسرے جائزے کے بعد 1.3 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی گئی۔

 دراصل ہم ایک ایسے مہاجن کے ساتھ ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں جس کے ہاتھ میں حساب کا وہ ترازو ہے جو ہماری سانسوں کا بھی وزن کرتا ہے اور ہمیں جب قلیل قرضہ تھماتا ہے جس سے نہ تو غریب کی بھوک مٹتی ہے نہ ہی اجڑے ہوئے کھیتوں میں ہریالی آ سکتی ہے اور شرطیں ایسے معلوم دیتی ہیں جیسے گھروں کے چراغوں کا تیل مانگ لیا ہو، فصلوں کی خوشبو کا سودا کر لیا ہو۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھاتے چلے جاؤ، بجلی کے نرخ بڑھتے چلے جائیں۔ شنید ہے کہ بجلی کے نرخ پھر بڑھنے والے ہیں، یہ 1.3 ارب ڈالر کی امداد بظاہر ایک بھاری پتھر ہے جوکہ خسارے کی کشتی میں رکھ دیا گیا ہو۔ آج یا کل کشتی نہ ڈوبے، اس لیے اسے بچانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

 اگر ہم پاکستان کی معیشت کے شکستہ ڈھانچوں پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ قینچی اب ہمارے بدن کی رگیں کاٹ رہی ہے۔ آج پاکستان کا ہر بچہ اس ضرب المثل کی عملی تفسیر بن چکا ہے کہ ’’باپ کرے تو بیٹا بھرے‘‘ وہ بچہ جس نے ابھی چلنا بھی نہ سیکھا ہو، وہ سوا تین لاکھ روپے قرض کا بوجھ اٹھائے پیدا ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرطوں میں اسی بات کی بھرمار ہوتی ہے کہ بجلی مہنگی، گیس مہنگی۔ اب حکومت کی طرف سے کفایت شعاری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری اداروں کی گاڑیاں ایک طرف کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو رہا ہو لیکن دیکھنے والی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ کتنے اداروں کے افسران اب بھی اسی طرح کروفر کے ساتھ بازاروں میں مارکیٹوں میں زیادہ گاڑیوں کے ساتھ گشت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

حکومت کی خرچ کم کرو، کفایت شعاری کی پالیسی کو نظرانداز کرنے کے نظارے اکثر شہریوں کے سامنے ہیں لیکن کسی بھی سوال، جواب کا نہایت ہی سخت طریقے سے جواب دیا جاتا ہے۔ کتنی خبریں ایسی بھی سننے کو مل رہی ہیں جو بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ہزاروں من گندم غائب ہو گئی۔ اس کی تحقیق کرائی جائے اگر خبر صحیح ہے تو ہر طرح کی معلومات حاصل کی جائیں اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، اگر اسی طرح کفایت شعاری کا مذاق اڑایا جاتا رہا اور بدانتظامی کے مظاہرے ہوتے رہے تو یہ قرض اب لوہے کی زنجیریں نہیں رہیں گی بلکہ ہندسوں کی زنجیریں بن جائیں گی۔

Similar Posts