یہ بات انھوں نے قونصلیٹ میں بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تحت پاک چائنا انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان عنقریب کئی اہم اسٹریٹجک معاہدے ہوں گے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندو خیل نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک اجتماع نہیں بلکہ امید، ترقی اور باہمی شراکت کا ایک پل ہے، پاکستان اور چین کی شراکت خطے کی مجموعی ترقی کی بنیاد ہے۔ پاک چائنا اکنامک اینڈ کلچرل کونسل کے بایزید کاسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان، پاکستان کے معاشی مستقبل کا انجن ہے۔ سی پیک کے منصوبے سے پاکستان کو زرعی شعبے میں فائدہ ہوا۔
انہوں نے کہا موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زراعت کا رخ بلوچستان کی جانب ہوچکا ہے۔بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے، جس میں لامتناہی صلاحیت موجود ہے، بلوچستان سی پیک فیز ٹو کیلئے ایک اہم مقام ہے۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا جنگ کے دوران بلوچستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، بلوچستان کی زرعی مصنوعات بلاشبہ لاجواب ہیں۔
چیئرمین بلوچستان ریوینیو اتھارٹی عبداللہ خان نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کی جہاں انواع ہیں، وہیں متعدد مواقع تلاش کیے جاسکتے ہیں۔