پنجاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کسان پریشان، فصلوں کو شدید نقصان

0 minutes, 0 seconds Read
پنجاب کو پاکستان کی فوڈباسکٹ کہا جاتا ہے۔ یہاں گندم، چاول، گنا، مکئی اور کپاس جیسی اہم فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ انہی فصلوں سے پورے ملک کو غذائی تحفظ ملتا ہے اور معیشت بھی چلتی ہے۔ لیکن گزشتہ پندرہ سے بیس برسوں کے دوران پنجاب کا موسم تیزی سے بدلا ہے۔ بارشوں کا انداز بے ترتیب ہو گیا ہے۔ گرمی پہلے سے زیادہ شدید ہو گئی ہے اور سردیوں کا موسم چھوٹا اور کم سرد ہوتا جا رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے کسانوں کو شدید پریشانی میں ڈال دیا ہے اور فصلوں کی پیداوار کو بہت نقصان پہنچا ہے۔۔

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی سیزنل آؤٹ لک رپورٹس کے مطابق سن 2000 کے بعد پنجاب میں اوسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوا جبکہ بارشوں کا نظام غیر یقینی ہو گیا۔ گرمی کی شدت اور دورانیہ بڑھا ہے اور سردیوں کا موسم مختصر ہو گیا ہے، جس سے فصلوں کے قدرتی سائیکل متاثر ہو رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تحقیق کے مطابق زیادہ اور کم درجہ حرارت میں اضافہ فصلوں کے بڑھنے کے دورانیے کو کم کر رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر درجہ حرارت میں ایک سے چار ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو تو گندم کی پیداوار میں 9 سے 30 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

 انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق پنجاب کے 80 فیصد سے زائد کسان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔ وسطی پنجاب میں بارشوں کا نظام غیر مستحکم ہو چکا ہے، جہاں بعض سالوں میں شدید بارشیں جبکہ بعض میں شدید خشک سالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپریل میں غیر متوقع بارشوں نے  گندم کی کٹائی کو متاثر کیا جبکہ جولائی اور اگست میں شدید بارشیں کپاس اور چاول کی فصلوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کے ایگزیکٹو ممبر  و زرعی ماہر ڈاکٹر انجم علی کے مطابق پنجاب میں موسمیاتی تبدیلی اب کلائمیٹ شفٹ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے تحت مون سون کا روایتی دورانیہ تبدیل ہو گیا ہے اور بارشیں محدود مدت میں زیادہ شدت کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ درجہ حرارت اور بارشوں کے بدلتے پیٹرن کے باعث فصلوں کی کاشت کے رجحانات بھی تبدیل ہو رہے ہیں، خصوصاً وسطی پنجاب میں پانی والی فصلوں جیسے گنا، چاول اور مکئی کا رقبہ بڑھ رہا ہے جبکہ کپاس کی کاشت کم ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر انجم علی کے مطابق اس صورتحال کے جواب میں زرعی نظام میں کئی تبدیلیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ شارٹ ڈیوریشن اقسام کے بیج، جدید بریڈنگ پروگرام، مائیکرو نیوٹرینٹس اور پوٹاش کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ فصلیں سخت موسمی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کیڑوں کے حملوں میں اضافہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ زیادہ درجہ حرارت ان کی افزائش کو تیز کرتا ہے۔

انہوں نے سفارش کی کہ ڈیجیٹل ایگریکلچر کو فروغ دیا جائے، کسانوں کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں، اور کلسٹر فارمنگ یا اجتماعی کاشتکاری کے ماڈلز اپنائے جائیں۔ اس کے علاوہ پانی کے بہتر استعمال، اسٹوریج انفراسٹرکچر، اور تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا۔

دوسری جانب  پراگریسوفارمر  عامر حیات بھنڈارا کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے کاشت اور کٹائی کے اوقات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ اور اپریل میں غیر متوقع بارشوں کے باعث گندم کی کٹائی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے فصلیں قبل از وقت پکنے لگتی ہیں، جس سے پیداوار میں کمی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

عامر حیات کے مطابق ہیٹ ویوز، سیلاب اور خشک سالی جیسے عوامل مل کر زرعی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ درجہ حرارت میں سال بہ سال نمایاں فرق سامنے آ رہا ہے، جس سے فصلوں کی نشوونما کا پورا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے سفارش کی کہ کاشتکاروں کو موسمیاتی خطرات کے مطابق فصلوں کے انتخاب اور کاشت کے اوقات میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو مالی تحفظ، موسمیاتی معلومات تک رسائی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی فراہم کرے۔

پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق  موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو کسان اگلے سال گندم نہیں بویں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے ہمیں برباد کر دیا ہے۔ حکومت درآمدات پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے جبکہ مقامی کسان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

Similar Posts