توانائی بحران، بجلی گیس مہنگی، ایکسپورٹ میں کمی ، صنعتوں کی بندش؛ کاروباری طبقہ شدید پریشان

0 minutes, 0 seconds Read
ملک میں توانائی بحران، بجلی اور گیس مہنگی، ایکسپورٹ میں کمی اور صنعتوں کی بندش کے باعث کاروباری طبقہ شدید پریشان ہے۔

فیڈریشن ہاؤس میں صدر اکرام راجپوت، یو بی جی کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر اور دیگر عہدیداران نے پریس کانفرنس کی جس میں صنعتوں کو درپیش مسائل، مہنگی توانائی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

نائب صدر آصف سخی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انڈسٹری ایل این جی کے بحران کا شکار ہے۔

نائب صدر امان پراچہ نے بھی فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک جانب پاور سرپلس ہونے کی بات کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال میں ٹیرف 20 گنا بڑھ چکے ہیں ۔ موجودہ حالات میں صنعتوں کو ایسے مقابلے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جہاں گیس اور بجلی کے مہنگے نرخوں کے باعث ریجن میں مقابلہ ممکن نہیں رہا۔

ریٹیل چین ایسوسی ایشن کے صدر اسفندیار نے مطالبہ کیا کہ دکانیں بند کرنے کا وقت رات 10 بجے تک کیا جائے ۔ ترکی اور سعودی عرب میں بھی مالز اور مارکیٹیں رات 10 بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس اور دیگر تمام ٹیکس حکومت کو ادا کیے جا رہے ہیں ۔ موجودہ اوقات کار سے ٹیکس کا شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

ریحان جاوید نے کہا کہ صنعت کا سنکشن لوڈ 22 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ بجلی کی مجموعی انسٹال کپیسٹی 41 ہزار میگاواٹ ہے، تاہم صنعتیں مشکل سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی استعمال کر رہی ہیں۔

یو بی جی کے صدر زبیر طفیل نے دکانوں کے اوقات کار 8 بجے سے بڑھا کر 10 بجے تک کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گیس کے ذخائر کو استعمال میں لایا جائے ۔ مقامی حکومت کو نظام کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گوادر میں ترقی رک گئی ہے، متعدد صنعتیں بند ہیں اور 40 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ فیلڈ مارشل، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ دعا ہے کہ یہ اتحاد برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی فیلڈ مارشل کو امن کا نوبل انعام دینے کی تجویز دیتی ہے ۔

پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 30 اپریل کو شیڈو بجٹ اور 5 سالہ معاشی پلان پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 500 ملین ڈالر کے بانڈز فروخت کیے گئے جس سے ملک کی ساکھ بہتر ہو رہی ہے ۔ موجودہ صورتحال میں 10 سے 15 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ایکسپورٹ 33 ارب ڈالر رہی جبکہ حکومت نے ہر سال 10 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا، تاہم رواں سال 37 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں ایکسپورٹ 30 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے جس سے 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں 41 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر صنعت صرف 3200 میگاواٹ بجلی استعمال کر رہی ہے جو کل صنعتی لوڈ کا 13 فیصد ہے، جبکہ صنعتوں کی بندش کے باعث بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہے۔

ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ 12 ہزار میگاواٹ سستی متبادل بجلی کی گنجائش موجود ہے  اور صرف 3 ہزار میگاواٹ استعمال ہو رہی ہے ۔ جنوبی علاقوں میں پیدا ہونے والی سستی بجلی کی 9 ہزار میگاواٹ گنجائش ضائع ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں پیدا ہونے والی سستی بجلی کو شمالی علاقوں تک منتقل کرنے کے لیے ٹرانسمیشن لائن نہیں بنائی گئی ، اس تاخیر کی ذمہ داری وزارت توانائی پر عائد ہوتی ہے۔ مٹیاری ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر گزشتہ 3 سال سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ ریٹیل کا جی ڈی پی میں 18 فیصد حصہ ہے لیکن دکانیں 10 بجے بند کرنے کے باوجود بجلی دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں نفع ہو اور اگر منافع دیا جائے۔ اسی فارمولے کے تحت بیرون ملک جانے والا سرمایہ واپس آ سکتا ہے۔

محسن نقوی کی جانب سے منی چینجرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ذریعے لین دین کو فروغ دیا جائے گا ۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث ایمنسٹی نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ صنعت کو ریلیف دینے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

Similar Posts