دوسرے ساتھی خلاباز نے خلا کے منظر کو یوں بیان کیا: ’’چاروں طرف ایک وسیع، سیاہ خلا ہے، خاموش، لامتناہی… اور اس کے بیچ ایک چھوٹا سا نیلا سیارہ، جیسے سمندر میں تیرتی ایک لائف بوٹ… پرسکون، مگر نہایت نازک۔‘‘ ایسے لمحے کو ماہرین ’’اوور ویو ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں یعنی وہ کیفیت جب انسان پہلی بار زمین کو ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ نہ سرحدیں، نہ جنگیں، نہ سیاست… صرف ایک سیارہ، ایک گھر، ایک مشترکہ تقدیر…
اس حالیہ سفر میں انسان نے تقریباً 695,000 میل کا فاصلہ طے کیا، لگ بھگ 10 دن خلا میں گزارے، مشن پر قریب 4 ارب ڈالر خرچ ہوئے مگر واپسی پر سب سے بڑی دریافت نہ چاند تھا، نہ ٹیکنالوجی بلکہ زمین کی قدر کا احساس تھا!
یہی احساس برسوں پہلے Carl Sagan نے بھی دلایا تھا۔ کارل ساگان بیسویں صدی کے ایک نامور امریکی ماہر فلکیات، کاسمولوجسٹ اور سائنس کو عام فہم انداز میں پیش کرنے والے (Science Communicator) کے طور پر مشہور ہیں۔
کارل ساگان ماورائے زمین ذہین مخلوق (Extra-terrestrial intelligence) کی تلاش کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ ان کا مشہور نقطہ نظر، جو بعد میں ’’Pale Blue Dot‘‘ کے تصور میں ڈھلا، یہ تھا کہ کائنات کی بے پایاں وسعت میں زمین ایک ننھا سا نقطہ ہے مگر یہی نقطہ زندگی کا واحد معلوم مرکز ہے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’’ہمیں اس سیارے کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں اب تک کہیں اور کوئی ایسا گھر نہیں ملا۔‘‘ یہ محض شاعرانہ بات نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ آج تک جتنی بھی کھوج ہوئی ہے، کہیں بھی ایسی زندگی نہیں ملی جو زمین جیسی ہو۔ پانی، فضا، درجہ حرارت، حیاتیاتی تنوع… یہ سب عناصر ایک نازک توازن میں یہاں موجود ہیں اور یہی توازن زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
اسی حقیقت کو مزید تقویت اس وقت ملی جب James Webb Space Telescope نے کائنات کی دور ترین تصاویر بھیجیں۔ اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں اور کہکشانی دھول کے یہ مناظر نہ صرف سائنسی لحاظ سے حیران کن تھے بلکہ فلسفیانہ طور پر بھی جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سائنسدان نے کہا:
’’How insignificant we are‘‘
یعنی ہم اس کائنات میں کس قدر حقیر ہیں! یہ جملہ محض عاجزی کا اظہار نہیں بلکہ ایک آفاقی حقیقت کا اعتراف تھا۔ کائنات کی وسعت کے سامنے انسان واقعی ایک معمولی وجود ہے مگر اس معمولی وجود کے پاس ایک غیرمعمولی چیز ہے: زمین۔
یہ دلچسپ حقیقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے، ایک طرف ہم کائنات میں انتہائی غیراہم ہیں لیکن دوسری طرف ہمارے پاس ایک ایسا سیارہ ہے جو بے حد قیمتی ہے اور منفرد بھی۔ مگر ہم اس قیمتی سیارے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم خلا بازوں کی آنکھوں سے زمین کو دیکھیں تو وہ ایک خوبصورت، نیلا اور سفید کرہ ہے… زندگی سے بھرپور، پرسکون۔ مگر زمین کے اندر رہ کر ہم نے اس کا ایک مختلف چہرہ بنا دیا ہے: آلودگی، جنگ، استحصال اور بے ہنگم ترقی کا چہرہ۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جنگلات کاٹے گئے، دریا زہر آلود ہوئے، فضا دھوئیں سے بھر گئی۔ ماحولیاتی تبدیلی اب ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے… گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، اور موسمی شدتیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جو شاید زیادہ تباہ کن ہے: جنگ، پچھلی صدی کی دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری ہیں اور ہر جنگ نہ صرف انسانی جانوں کو نگلتی ہے بلکہ زمین کے جسم پر بھی زخم چھوڑ جاتی ہے۔ روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ہاتھوں غزہ اور لبنان کی تباہی اور حالیہ امریکا ایران جنگ۔ ان سب میں ہزاروں ٹن گولہ بارود استعمال ہوا۔ ہر بم، ہر دھماکہ، زمین کی مٹی، پانی اور فضا کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔
یہ سب کچھ اس سیارے پر ہو رہا ہے جسے خلا سے دیکھنے پر ایک ’’پرامن کشتی‘‘ یعنی لائف بوٹ کہا گیا۔ جنگوں کے علاوہ ہمارا روزمرہ طرزِ زندگی بھی کم نقصان دہ نہیں۔ ہم نے ایک ایسی طرز معیشت اور طرز زندگی تشکیل دی ہے جو صرف کھپت یعنی consumption پر مبنی ہے۔ زیادہ استعمال، زیادہ پیداوار، زیادہ فضلہ… یہی ترقی کا پیمانہ بن چکا ہے۔ پلاسٹک کے ڈھیر، آلودہ سمندر، ختم ہوتے جنگلات… یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنے اس گھر کو آہستہ آہستہ برباد کر رہے ہیں۔
کارل ساگان نے کہا تھا کہ زمین ہماری ذمے داری ہے۔ مگر ہم نے اس ذمے داری کو نظرانداز کیا ہے۔ James Webb Space Telescope کی تصاویر گواہ ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور ہم اس میں کتنے تنہا ہیں۔ اربوں کہکشائیں ہیں، مگر زندگی کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں۔ اس تنہائی میں زمین ایک معجزہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، ہم زمین کے بغیر کچھ نہیں۔ ہم خلا میں زندہ نہیں رہ سکتے، ہم کسی اور سیارے پر فوری طور پر آباد نہیں ہو سکتے۔ ہماری بقا اسی سیارے سے جڑی ہوئی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سیارے کی حفاظت کی ذمے داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ دنیا کو چھوڑیں، ہم اگر اپنی طرف دیکھیں تو بھی تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً 6 کروڑ تھی جب کہ آج یہ تعداد 24 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور کمزور منصوبہ بندی نے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ اکثر بغیر صفائی کے دریاؤں اور نالوں میں ڈالنا اور پانی کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ماحول کی تباہی کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے، اس پر جاری جنگیں سیر پر سوا سیر ہیں۔
یہ سب اسی زمین کے ساتھ ہو رہا ہے جو ہمارا واحد مسکن ہے۔ انسان اس نعمت یعنی زمین کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بھی ہے اور سب سے بڑا نقصان پہنچانے والا بھی۔
فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ اس سیارے کی قدر کرے، اسے محفوظ رکھے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا چھوڑ جائے یا پھر اپنی بے حسی، اپنی جنگوں اور اپنی اندھی ترقی کے ذریعے اس واحد گھر کو تباہ کر دے۔