ایک اور وجہ یہ تھی کہ ایرانی ٹیم اور تہران میں موجود قیادت کے درمیان سیکیورٹی وجوہات کے باعث کمیونیکشن کا فقدان تھا۔ امریکی ٹیم کے پاس سہولت تھی کہ وہ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ سے رابطہ کر سکتے تھے۔ امریکی نائب صدر نے بارہ مرتبہ ٹرمپ سے بات کی ۔ یہ طویل مذاکرات 21گھنٹوں پر مشتمل نتیجہ خیز تو نہ ہو سکے لیکن انھوں نے کیا مستقبل کا فریم ورک تیار کیا اس کا جواب وقت دے گا؟ایرانی وزیر خارجہ نے ان مذاکرات کو انقلاب کے بعد امریکا کے ساتھ سب سے زیادہ سنجیدہ مذاکرات قرار دیا۔
بہرحال ایران کا مطالبہ مان کر امریکا نے اسرائیل پر دباؤ ڈالتے ہوئے لبنان میں جنگ بندی کرا دی ۔ چنانچہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھول دیا ۔ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ دوسری طرف امریکا نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہوئی ہے اوراس کے لیے مزید بحری فوج ایرانی ساحلوں پر بھیج رہا ہے ۔ اس صورت حال پر ایرانی ترجمان نے امریکا کو وارننگ دی ہے کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ اگر یہ خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز پھر سے بند ہو سکتی ہے ۔ بہرحال صدرٹرمپ بہت خوش ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے ، نہ صرف پاکستانی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل صاحب کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں ۔
سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق امریکا ایران جنگ کی وجہ سے امریکی مارکیٹوں کو صرف ایک دن میں گیارہ ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا کو کتنا بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی عاقبت نااندیشی نے وہ رجیم چینج جو ان کے منصوبے کے مطابق ایک ہفتے کے اندر ہو جانا تھا ، اس میں امریکا کو ناکامی ہوئی اب تو امریکی میڈیا بھی کہہ رہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوئی ایران کے مقابلے میں ۔ خلیجی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہونے میں کئی ماہ لگیں گے ۔ بلکہ امن معاہدہ طے ہونے میں تقریباً 6ماہ لگ سکتے ہیں ۔ اگر یہ غیر یقینی صورت حال برقرار رہی تو آئندہ ماہ تک عالمی سطح پر غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ۔
اس بدترین صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی بھی اتنی مدت تک برقرار رہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں کیا یہ ممکن ہے اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست یقینی ہے ۔
ٹرمپ کا خود کو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے مشابے کہنے پر قدامت پرست مسیحوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے صدرٹرمپ کی مقبولیت جو پہلے ہی سے گری ہوئی ہے مزید گرنے کا خدشہ ہے ۔ دوسری جانب خاتون اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلانی نے بھی اس عمل پر ٹرمپ کی مذمت کی ۔ ایرانی صدر نے بھی ایرانی قوم کی طرف سے اس بارے میں دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک امریکی پروفیسر نے ٹرمپ کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے وقوف نہیں بلکہ لومڑی جیسی چالاکی رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف 200امریکی ماہرین صحت نے ٹرمپ کو خود پسندی کا مہلک بیمار قرار دیتے ہوئے انھیں ذہنی عدم استحکام کا حامل قرار دیا ہے۔
پشین گوئی کی بھی ایک سائنس ہے ۔8اپریل کو جنگ بند ہونے پر یہ 40روز ہ جنگ کہلائی ۔40کے ہندسے کی بڑی اہمیت ہے ۔ لیکن اس کے اثرات 39ویں دن کے آخر سے شروع ہو جاتے ہیں ۔ وہ 42ویں دن تک جاری رہتے ہیں ۔ اس ڈھائی پونے تین سال کے دورانیے میں انتہائی اچھی اور انتہائی بُری چیزیں رونما ہو سکتی ہیں ۔ اس جنگ کی شدت 8اپریل کو اچانک ٹوٹ گئی۔
جب جنگ بندی ہوگئی تو میں نے سوچا کہ اب آنے والی اہم تاریخیں کون سی ہو سکتی ہیں ۔ تو وہ 12-13اپریل نکلیں ۔ لیکن اس کی مرکزی تاریخ 16اپریل نکلی جو سب سے زیادہ اہم تھی۔ لیکن میں نے Around Datesبھی شامل کر لیں جو 15اور 17اپریل تھیں ۔ لیکن اس کا مکمل دورانیہ 11ویں گھر ، 12ویں 13ویں اور 14ویںگھر کے حوالے سے 19,20,21,22 اپریل کی تاریخیں بنتی ہیں ۔ بہرحال اپریل کے آخری ایام اور مئی کے مہینے بھی جنگ بندی کے حوالے سے عدم استحکام ہی رہے گا کیونکہ صدر ٹرمپ کے سر پہ چاند گرہن لگا ہوا ہے ۔