میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں پیش آنے والے اس واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے کے ذریعے مقدس مجسمے کو نقصان پہنچاتے دیکھا گیا۔
اس تصویر نے سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی اور چند ہی گھنٹوں میں اسے لاکھوں افراد نے دیکھ لیا۔
اطلاعات کے مطابق اس تصویر کو پیر کی صبح تک 50 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں صارفین، مذہبی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2026/4/20/iran-war-live-tehran-slams-uss-piracy-after-ship-seizure-vows-response
اسرائیلی فوج نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تصویر حقیقی ہے، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے پہلے سے کشیدہ صورتحال میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں مذہبی حساسیت اور سیاسی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔