دنیا کی سیاست میں یہ محض کوئی جدید اصطلاح نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی مذہبی کتابوں میں پیوست ہیں۔ عبرانی زبان میں اسے ’ارضِ اسرائیل الکاملہ‘ یعنی ’اسرائیل کی مکمل سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔
یہ نظریہ بائبل کے ان حوالوں پر مبنی ہے جن میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین کو ایک ’الٰہی وعدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں موجودہ فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان، شام کے بڑے حصے، عراق، سعودی عرب کا کچھ علاقہ اور مصر کا جزیرہ نما سینا بھی شامل ہو جاتا ہے۔
صہیونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرزل کے دور سے ہی اس نظریے میں دو واضح سوچیں موجود رہی ہیں۔ جہاں سیکولر صہیونی اسے ایک سیاسی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے، وہیں مذہبی گروہ اسے ایک مقدس مشن کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی اپنی مستقل سرحدوں کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ انتہا پسندوں کے نزدیک اسرائیل کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ان کا ’مذہبی حق‘ ختم ہو۔
اس خواب کی تعبیر کے لیے 1967 کی ’چھ روزہ جنگ‘ ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی، جس میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ آج ان علاقوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی موجودگی اسی توسیعی نظریے کا تسلسل ہے۔
امریکی سیاست، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے اس سوچ کو عالمی قوانین کے برعکس اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کیا۔ موجودہ اسرائیلی قیادت، بالخصوص وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء، اکثر ایسے نقشے لہراتے نظر آتے ہیں جن میں فلسطین کا وجود ہی غائب ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات اردن کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔
آج لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور جنوبی لبنان میں یہودی بستیوں کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندانہ نظریات اب اسرائیل کی ریاستی پالیسی بن چکے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا یہ جنون محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا بارود ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک سکتا ہے۔