ان خیالات کا اظہار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کیا، انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی دباؤ میں آکر نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ہرگز درست نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنے جا رہا ہے جو سابق امریکی صدور کے دور میں ہونے والے معاہدوں سے کہیں بہتر ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنے اس معاہدے کو 2015 میں ایران کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس، جرمنی کے طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے سے بڑی کامیابی قرار دیا۔
تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اختتام (22 اپریل) تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو سیز فائر میں توسیع کا بہت کم امکان ہے۔
بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی اس تک برقرار رہے گی جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہوجاتا۔
امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کے اختتام تک معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔