ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس تاخیر کی وجہ امریکی بیانات اور اقدامات میں تضاد اور غیر واضح رویہ ہے۔ حکام کے مطابق فیصلہ اسی صورت میں ہوگا جب مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہونے کا امکان ہو۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ اور امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات میں شرکت کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایرانی نیوزچینل سے گفتگو میں ایرانی جہازوں پر امریکا کی جارحیت سے متعلق کہا کہ ایرانی بحری جہازوں اور کھلے سمندروں میں تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔
انہوں نے امریکا پر ایران کے عدم اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحری جہازوں پر حملے سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق جب ان تمام اقدامات کو یکجا دیکھا جائے تو امریکا کی نیت اور طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ابتدا ہی سے امریکا پر اعتماد نہیں کرتا۔ ان کے مطابق 40 روزہ دفاعی مرحلے کے دوران مخالف فریق اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں مزید کہا کہ اگرچہ اس دوران متعدد حملے کیے گئے اور ایران کو نقصان پہنچا، حتیٰ کہ رہنماؤں اور کمانڈرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت کے باعث مخالفین اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی شرکت اس کے ذمہ دارانہ مؤقف کی عکاس ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ سفارتی عمل کا نتیجہ خیز ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایران اس وقت تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرے گا جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ مذاکرات عملی طور پر نتیجہ دے سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بطور سفارتی ادارہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قوم کے سامنے شفاف انداز میں بات کریں۔
ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کئی اداروں نے اس معاملے پرغلط اطلاعات نشرکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا تو اس سے عوام کو ضرور آگاہ کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران دونوں ممالک کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، جب کہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے پاس میدان میں استعمال کے لیے نئے آپشنز موجود ہیں۔
ادھر پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اسلام آباد اس ہفتے ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات کے لیے ایران کی باضابطہ تصدیق کا انتظار کر رہا ہے اور اس حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔