عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہا ہے۔
ایرانی حکومتی کمیونیکیشنز کے سینئر اہلکار الیاس حضرتی نے بتایا کہ ایرانی وفد میں شامل تمام مذاکرات کار اجتماعی طور پر فیصلے کرتے ہیں اور تمام اقدامات سپریم لیڈر کی رہنمائی میں کیے جاتے ہیں۔
الیاس حضرتی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی ریاستی پالیسی کے اہم فیصلوں میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کا تاحال مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور اس کی بنیاد پر امریکی وفد نے اپنا دورۂ پاکستان مؤخر کردیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ کے اوائل میں عہدہ سنبھالا تھا جب 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو عسکری قیادت سمیت قتل کردیا گیا تھا۔
نئے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای تاحال عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔ اُن کے تمام بیانات بھی تحریری پیغامات کی صورت میں ایرانی میڈیا میں سامنے آئے ہیں۔ جنھیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔
تاہم اب تک انھوں نے مذاکرات پر براہِ راست کوئی واضح بیان نہیں دیا البتہ اپنے بعض پیغامات میں امریکا پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔
18 اپریل کو جاری اپنے ایک بیان میں سپریم لیڈر مجبتیٰ خامنہ ای نے ایرانی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کفر اور عالمی غرور کے محاذ پر موجود قوتیں ہیں۔