ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے گئے تو نزلہ صرف میونسپل کمشنر پر گرا اور وہ اس عہدے سے ہٹادیے گئے، بعدازاں کمشنر کراچی کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے ایک ماتحت افسر کی تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس پر صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس سے درخواست کی کہ جیوڈیشل ٹریبونل بنایا جائے جو اس سانحہ کی تحقیقات کرے۔ یوں سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل کو اس ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ٹریبونل نے عرق ریزی سے تحقیقات کیں۔
سرکاری افسران، گل پلازہ کے دکاندار اور گل پلازہ کی انتظامیہ کے علاوہ اس سانحہ میں مرنے والے افراد کے لواحقین ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔ اس ٹریبونل نے گزشتہ ہفتے سندھ حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ حکومت سندھ اس بات کی پابند ہے کہ رپورٹ عوام کے لیے افشاء کی جائے مگر بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر تاحال رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے معاونین پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی ہے۔ اس کمیٹی کا کنوینر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء النجار کو مقرر کیا گیا۔ بلدیات کے وزیر ناصر شاہ اور صنعتوں کے وزیر اکرم دھاریجو کو اس کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا۔ محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اقبال میمن کو کمیٹی کا سیکریٹری مقر کر دیا گیا۔
سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق ٹریبونل کی رپورٹ میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، یہ کمیٹی ان خامیوں کے تدارک کے لیے اقدامات کا جائزہ لے گی اور کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گی۔ اس کمیٹی کے کنوینر وزیر داخلہ ضیاء النجار کا مؤقف ہے کہ اس کمیٹی کے قیام سے اس سانحے کے بارے میں حکومت سندھ کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ ٹربیونل کے سامنے انتظامی و پولیس افسران اور امدادی اداروں کے افسران کے علاوہ گل پلازہ کی انتظامیہ کے اہلکار ، دکاندار ،مرنے والے افراد کے لواحقین اور سول سوسائٹی کے ایکٹیوسٹ بھی پیش ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اپنے وکیل کے ساتھ ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے تاہم ٹریبونل نے انھیں ہدایت کی کہ وہ بذریعہ ای میل اپنی معروضات پیش کریں۔
فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ جس کا بنیادی کام آگ بجھانا ہے، اس کے چیف فائر افسر نے ٹریبونل کو بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس خطرناک آگ پر قابو پانے کی جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے۔ ایک اور افسر کا کہنا تھا کہ دن میں کئی دفعہ لوڈ شیڈنگ کی بناء پر فائر بریگیڈ اسٹیشن کی بجلی چلی جاتی ہے، یوں سارا کام رک جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ اسٹیشن کی پانی کی لائن میں پہلے گندا پانی آتا ہے اور پھر جب صاف پانی آتا ہے تو یہ پانی فائر ٹینڈرز کو ملتا ہے۔ پانی کے ہائیڈرنٹ سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 20 میل دور صفورا اور نارتھ ناظم آباد کے ہائیڈرنٹ سے پانی لایا جاتا تھا۔ یوں اس آپریشن کے دوران کئی کئی گھنٹے پانی میسر نہیں تھا۔ تحقیقات کے دوران ٹریبونل کے سامنے یہ شہادت بھی پیش کی گئی کہ گل پلازہ کی انتظامیہ نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 900 کے قریب دکانیں بنائی تھیں جس سے عمارت میں چلنے پھرنے کی جگہ بہت محدود ہوگئی اور اس عمارت میں آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے۔
مرنے والے افراد کے لواحقین نے ٹریبونل کے سامنے یہ بھی بتایا کہ آگ لگنے کے کئی گھنٹوں بعد تک موبائل فون پر ان کا اپنے عزیزوں سے رابطہ تھا مگر پلازہ کے تمام دروازے بند تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے 24گھنٹوں تک پلازہ میں داخل ہونے کے لیے کوئی دیوار نہیں توڑی تھی، اگر آگ لگنے کے پہلے چند گھنٹوں کے دوران ایک مربوط آپریشن کے ذریعے عمارت میں جانے کے راستے بنادیے جاتے تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں مگر ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس دیوار توڑنے کے آلات نہیں ہیں۔ مرنے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ٹریبونل کے سامنے پیش کی گئی تو پتہ چلا کہ بیشتر افراد کی اموات دھواں پھیلنے اور دم گھٹنے سے ہوئی۔
اس ٹریبونل میں دو تین افراد وہ پیش ہوئے جنھوں نے مسجد کا دروازہ توڑ کر اپنی جان بچائی۔ فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے ،ٹریفک جام اور غیر منظم ہجوم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹوں کے بارے میں بھی شہادتیں پیش کی گئیں۔ ٹریبونل کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سندھ حکومت کا الیکٹڈ اسپیکٹر فعال نہیں ہے جس کا بنیادی کام ہر عمارت میں بجلی کے نظام کے معیار کا جائزہ لینا ہے۔ ٹریبونل کی کارروائی کا جائزہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے داری محکمہ بلدیہ اور اس کے ذیلی اداروں بلدیہ کراچی کے فائر بریگیڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ پولیس اور سول و ڈیفنس کے محکموں پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ نتائج اخذ کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ متعلقہ اداروں کے افسروں کی نااہلی، سرکاری عملے کا تربیت یافتہ نہ ہونا، ان اداروں میں کرپشن اور صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس اس سانحہ کی براہِ راست ذمے دار ہے۔
جدید ممالک اس طرح کے سانحہ کے بعد سب سے پہلے احتساب کا عمل شروع کرتے ہیں۔ اس سانحہ کے ذمے دار اداروں میں سے بیشتر کا تعلق محکمہ بلدیات اور اس کے ذیلی اداروں سے ہے۔ اگرچہ کسی حادثے پر متعلقہ وزیر کے مستعفی ہونے کی روایت تو اس ملک میں ہے ہی نہیں مگر یہ کیسی منطق ہے کہ جس محکمہ کے افسروںکا سب سے زیادہ احتساب ہونا چاہیے، اس محکمہ کے وزیر کو ہی ٹریبونل کی رپورٹ پر عملدرآمد کی نگرانی پر مامور کردیا گیا۔ اس وقت مسئلہ صرف گل پلازہ کا نہیں ،وہاں جو جانی اور مالی نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا، اب کراچی سمیت اندرون سندھ شہریوں کے تحفظ کا معاملہ سب سے اہم ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب 10 سال قبل بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی تو اس سانحے میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
سندھ حکومت نے ریٹائرڈ جج جسٹس علوی کی قیادت میں ٹریبونل بنایا تھا مگر اس ٹریبونل کی رپورٹ کو بھی عام نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس رپورٹ پر عملدرآمد کیا گیا۔ ایک تجربہ کار صحافی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت احتساب پر یقین نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین حکمراں جماعت یعنی پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو ہیں۔ ایک اور صحافی کا کہنا ہے کہ ’’سسٹم‘‘ سے منسلک افسروں کے خلاف سندھ میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ گل پلازہ کے بعد کئی مقامات پر آگ لگی مگر معاملات کنٹرول میں رہے۔ جب متعلقہ افراد کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر خدانخواستہ اگلے چند مہینوں میں کوئی نیا حادثہ متوقع ہے۔