6

ایسی کون سی غذائیں ہیں جو بینائی کیلئے مفید ہیں؟

موتیا بینائی کے ان امراض کا گروپ ہے جو بینائی سے محرومی کا باعث بننے والا دوسرا بڑا سبب ہے۔
اپنی بینائی کو بڑھتی عمر کے ساتھ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو درست غذا کا انتخاب کریں۔ یہ مشورہ گلاکوما ریسرچ فاؤنڈیشن نے دیتے ہوئے صحت مند بینائی کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں۔

موتیا بینائی کے ان امراض کا گروپ ہے جو بینائی سے محرومی کا باعث بننے والا دوسرا بڑا سبب ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق دیگر طبی مسائل سے تحفظ کے ساتھ ساتھ اچھی غذا آنکھوں کے لیے بھی اہم ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کا استعمال وٹامن اے اور سی کے حصول کے اچھے ذرائع ہیں جبکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسائیڈنٹس لیوٹٰن اور zeaxanthin بھی ملتے ہیں جو تکسیدی تناؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں جو آنکھوں کے اعصاب کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

584 خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافتک یا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں پھل یا جوس کا استعمال موتیا کے خطرے کو 79 فیصد تک کم کرتا ہے۔

اسی طرح سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک سے بھی موتیا کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ ان سے جسمانی ورم، کینسر، امراض قلب اور عمر کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی تنزلی کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

فاؤنڈیشن نے مزید بتایا کہ گریاں اور بیج وٹامن ای کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں جو خلیات کو صحت مند رکھنے اور انہیں مضر مواد سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

فاؤنڈیشن نے مچھلی کے استعمال کا مشورہ بھی دیا جو اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپورہونے کے باعث موتیا کا خطرہ کم کرتی ہے۔

ادارے نے برٹش جرنل آف Ophthalmology کی ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ جو لوگ روزانہ کم از کم ایک کپ گرم چائے نوش کرتے ہیں ان میں موتیا کا خطرہ اس مشروب سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 74 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

اسی طرح ادارے نے کیلے، چاکلیٹ، کدو کے بیج اور کالے بیجوں کو بھی بینائی کے لیے مفید قرار دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ جو افراد موتیا سے متاثر ہیں نہیں ایسی غذاؤں سے گریز کرنا چاہیے جو میٹابولک سینڈروم، موٹاپے، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

درحقیقت بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو معمول پر رکھنے والی غذا موتیا کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں