برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ہم نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں پوری نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس کے برعکس امریکی فریق نے جنگ بندی مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور بار بار اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز انداز اپنایا جا رہا ہے جس میں ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی باتیں شامل ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے جسے انھوں نے جارحیت قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکی بحریہ نے حال ہی میں ایک ایرانی جہاز پر فائرنگ کے بعد اسے تحویل میں لیا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان کی امن کے قیام کے لیے کی گئی کوششوں اور اقدامات کو ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع اور کسی بھی جارحیت یا خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطح کے براہ راست مذاکرات ہوئے تھے البتہ مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہوپایا۔
ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دوسرے دور کے مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا جس پر صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورۂ پاکستان مؤخر کرکے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار پر ایران پر حملے کا منصوبہ تھا لیکن پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کے بقول جنگ بندی میں توسیع بھی پاکستانی کی قیادت کی درخواست پر کر رہے ہیں جب تک کہ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق اتفاق نہیں ہوجاتا۔