اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب کے مطابق اگر واشنگٹن بحری محاصرہ ختم کردے تو بات چیت کے لیے تیار ہیں۔چینی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فریقین جنگ بندی برقرار رکھیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عالمی سیاست کے پیچیدہ افق پر اس وقت جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ محض دو ریاستوں کے مابین کشیدگی کا سادہ سا بیان نہیں بلکہ ایک ایسے ہمہ جہت بحران کی علامت ہے جس میں طاقت کے توازن، نظریاتی کشمکش، معاشی مفادات اور سفارتی حکمت عملیوں کے بے شمار دھارے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ، جسے عارضی طور پر جنگ بندی کی صورت میں ایک مہلت ضرور ملی ہے، درحقیقت ایک ایسے تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی نظام پر مرتب ہونگے۔
اس تناظر میں جنگ بندی میں توسیع کا اعلان یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی ہوئی شرائط، بیانات اور ردعمل اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ سکون کتنا ناپائیدار اور غیر یقینی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اس جنگ بندی کو مزید وقت ملنا ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے نازک لمحات میں محض وقتی اقدامات دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ ایران کی جانب سے امریکی شرائط کو مسترد کرنا اور مذاکرات کیل۷ے فوری آمادگی نہ دکھانا اس امر کی واضح علامت ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ جب ایک فریق خود کو برتر پوزیشن میں تصور کرتے ہوئے شرائط عائد کرے اور دوسرا انھیں اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھے، تو ایسے میں مکالمے کی فضا پیدا کرنا آسان نہیں رہتا۔
جنگ بندی میں توسیع کا اعلان، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، دراصل ایک نازک وقفہ ہے جس کے اندر بے یقینی کے بے شمار سائے موجود ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اس توسیع کو ممکن بنایا جانا یقیناً ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے، مگر اس کامیابی کی اصل قدر اسی وقت سامنے آئے گی جب یہ عارضی سکون ایک مستقل امن کی بنیاد بن سکے۔
ایران کی جانب سے امریکی شرائط کو مسترد کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ محض جنگ بندی یا اس کی مدت کا نہیں بلکہ بنیادی اختلافات کا ہے۔ جوہری پروگرام کا معاملہ اس تنازع کے مرکز میں ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں فریقین کے مؤقف میں سب سے زیادہ تضاد پایا جاتا ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے ضروری قرار دیتا ہے اور اسے اپنی خودمختاری کا حصہ سمجھتا ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے ایک ممکنہ خطرہ تصور کرتے ہیں جو خطے کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔ یہ اختلاف محض تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی، عسکری اور نظریاتی عوامل کارفرما ہیں۔
امریکا کی جانب سے جنگ بندی میں یک طرفہ توسیع اور ساتھ ہی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو برقرار رکھنا ایک ایسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں بیک وقت نرمی اور سختی دونوں عناصر شامل ہیں۔ بظاہر یہ اقدام مذاکرات کو موقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، مگر عملی طور پر یہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح کی دو رخی پالیسی نہ صرف اعتماد کی فضا کو متاثر کرتی ہے بلکہ مذاکراتی عمل کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر سخت ردعمل اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ہر اقدام کو اپنی خودمختاری کے خلاف ایک ممکنہ خطرے کے طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں، جن میں خطے کی تیل کی صنعت کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے، اس بحران کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کا مرکز ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی عدم استحکام عالمی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی، حصص بازاروں میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا امن کو ترجیح دیتی ہے، کیونکہ استحکام ہی معاشی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تاہم یہ استحکام عارضی بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ جیسے ہی کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے، اس کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ امریکا کے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ اس پورے منظرنامے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور خودکار نظاموں پر بھاری سرمایہ کاری اس بات کا عندیہ ہے کہ دنیا ایک نئے عسکری دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں جنگ کی نوعیت، رفتار اور اثرات سب کچھ بدلنے والا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف طاقت کے توازن کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی سیاست کے اصولوں کو بھی نئی شکل دے رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی علاقائی تنازع کا عالمی سطح پر پھیل جانا بعید از قیاس نہیں۔ عالمی برادری کا کردار اس تناظر میں مزید اہم ہو جاتا ہے۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین، چین اور روس جیسے عالمی کھلاڑی اگر اس معاملے میں فعال کردار ادا کریں تو ایک کثیرالجہتی حل ممکن ہو سکتا ہے۔ یک قطبی دنیا میں اکثر فیصلے یک طرفہ ہوتے ہیں، جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر مختلف طاقتیں مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو نہ صرف تنازع کو حل کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ چین کا محتاط مگر مثبت رویہ، جس میں جنگ بندی مذاکرات کے تسلسل کی امید ظاہر کی گئی ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس بحران کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ روس بھی روایتی طور پر ایران کے قریب رہا ہے، اور اس کی شمولیت کسی بھی ممکنہ حل کو زیادہ متوازن بنا سکتی ہے۔
یورپی یونین، جو ماضی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں اہم کردار ادا کر چکی ہے، ایک بار پھر سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ فریقین اپنے مؤقف میں لچک پیدا کریں۔ سخت گیر پالیسیوں اور غیر لچکدار رویوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں ہوتی۔ اعتماد سازی کے اقدامات، جیسے پابندیوں میں نرمی، عسکری سرگرمیوں میں کمی اور مثبت بیانات، اس عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مذاکرات کو محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ سنجیدگی سے مسائل کے حل کی طرف بڑھا جائے۔ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کا دوسرا دور اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں منعقد ہونے کی توقع ہے جب جنگ بندی اپنی نازک ترین حالت میں ہے۔
اگر اس موقع کو ضایع کر دیا گیا تو دوبارہ ایسا موقع ملنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرے اور عالمی برادری کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس کے نتائج کو پائیدار بنایا جا سکے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے لے کر حالیہ علاقائی تنازعات تک، ہر جگہ یہی دیکھا گیا ہے کہ عسکری تصادم کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ہوتے ہیں۔
انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، مہاجرین کا بحران اور معاشی زوال ایسے اثرات ہیں جن سے نکلنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ عالمی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرے اور طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے۔موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ غیر یقینی کیفیت کو ختم کیا جائے۔ گو مگو کی فضا نہ صرف سیاسی عمل کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوام میں بھی بے چینی پیدا کرتی ہے۔ واضح اور دوٹوک اقدامات ہی اس بحران کو حل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی کوششیں اس سمت میں ایک اہم قدم ہیں، مگر انھیں عالمی حمایت کی ضرورت ہے۔
اگر اس نازک مرحلے پر دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ بحران ایک ایسے طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کی لپیٹ میں آنے سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریقین اپنی ضد کو پسِ پشت ڈال کر مذاکرات کی میز پر آئیں، ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو نہ صرف ان کے اپنے مفادات بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سودمند ہو۔ یہی راستہ ہے جس میں بقا ہے، اور یہی وہ منزل ہے جس کی طرف بڑھنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔