عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ دراصل اس وقت جنگ ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل حلقوں کے درمیان جاری ہے جن کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ایرانی قیادت کے ایک اور متفقہ جواب کے منتظر ہیں۔ اسی لیے انھوں نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو لچک دکھانے کا موقع دیا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ امریکی فوجی حملوں اور کارروائیوں میں وقتی وقفہ ہے تاہم ایران پر اقتصادی دباؤ اور اس کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی۔
کیرولین لیوٹ نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی۔ میڈیا میں گردش کرنے والی تین سے پانچ دن کی مدت کی خبریں درست نہیں ہیں۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ جنگ بندی میں توسیع کب ختم ہوگی اس کا حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ خود کریں گے۔