دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرامریکا ایران امن مذاکرات بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ملاقات کی جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال اور امن کوششوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کی پوزیشن نمایاںہونے کے عمل نے، بھارتی داخلی سیاست اور میڈیا کنٹرول نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا،پاکستان اس وقت سفارتی طور پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے، جب کہ بھارت کی سیاسی اشرافیہ اس صورتحال سے خوش نظر نہیں آتی۔
اسلام آباد کی فضا اس وقت محض سفارتی سرگرمیوں کا مرکز نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی اضطراب کی آئینہ دار بن چکی ہے جس کے ارتعاش مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے جغرافیے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا التوا بظاہر ایک وقتی وقفہ محسوس ہوتا ہے، مگر اس وقفے کے اندر چھپی ہوئی پیچیدگیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نہ صرف سفارتی سطح پر متحرک ہیں بلکہ ایک ایسے پل کی تعمیر میں مصروف ہیں جو دو متحارب قوتوں کو مکالمے کی میز پر لا سکتا ہے۔ یہ کردار محض رسمی یا وقتی نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت اور سفارتی توازن کو بروئے کار لا رہا ہے۔ امریکی رویے میں حالیہ لچک، جس کا اظہار ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں ہوا، ایک طرف امید کی کرن دکھاتی ہے تو دوسری طرف اس میں پوشیدہ ابہام بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔
مذاکرات کے امکانات کا اظہار، جنگ بندی میں توسیع اور کسی حتمی ڈیڈ لائن سے گریز، یہ تمام عناصر امریکی پالیسی کے اندر موجود اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں جو طاقت اور سفارتکاری کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا، کیونکہ تہران بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ دباؤ اور پابندیوں کے سائے میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔
ایران کا موقف بظاہر سخت سہی، مگر اس کی بنیادیں ایک گہرے تاریخی اور سیاسی تجربے میں پیوست ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور ان کی مبینہ خلاف ورزیوں نے ایران کے اندر ایک عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت اس بار کسی بھی قسم کی پیش رفت کو ٹھوس ضمانتوں سے مشروط کر رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا عندیہ، بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے خلاف ردعمل اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات دراصل اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے ایران اپنے موقف کو عالمی سطح پر منوانا چاہتا ہے۔یہ تمام صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج بن چکی ہے۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک اہم شریان ہے، اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف تیل کی قیمتوں کو آسمان تک لے جا سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں شدید بے یقینی بھی پیدا کر سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست صنعتی پیداوار، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
اس کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے، جہاں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہوتا ہے۔پاکستان بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ توانائی کی درآمدات پر انحصار، زرمبادلہ کے ذخائر کی محدودیت اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے ملکی معیشت کو ایک نازک حالت میں پہنچا دیا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں محض ایک عالمی ذمے داری نہیں بلکہ ایک داخلی ضرورت بھی ہیں۔
پاکستان کی ثالثی کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم عالمی سطح پر اعتماد کے فقدان کو دیکھتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں، جب کہ دیگر عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت اس تنازع کو دیکھ رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان ایک ایسے فریق کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر دونوں جانب کسی حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جانا اور اعلیٰ سطح رابطوں کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد نے ایک موثر سفارتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ صورتحال جنوبی ایشیا کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت نے اسے عالمی منظرنامے میں ایک نمایاں مقام دیا ہے، جب کہ بھارت اس معاملے میں نسبتاً پس منظر میں چلا گیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد نے ایک ایسا سفارتی خلا پر کیا ہے جو نئی دہلی کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی حیثیت کو مضبوط بناتی ہے۔
امریکا کے داخلی سیاسی حالات بھی اس بحران پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو درپیش سیاسی دباؤ اور ان کی گرتی ہوئی مقبولیت انھیں ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جو وقتی طور پر فائدہ مند مگر طویل المدتی لحاظ سے نقصان دہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی میں تسلسل کا فقدان نظر آتا ہے، جو مذاکراتی عمل کو متاثر کرتا ہے۔ایران کے اندرونی حالات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اقتصادی پابندیوں نے وہاں کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جب کہ عوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
ایرانی قیادت کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے جہاں اسے ایک طرف اپنے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے اور دوسری طرف عالمی دباؤ کا سامنا بھی کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کے باوجود اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہے۔عسکری پہلو سے دیکھا جائے تو صورتحال مزید پیچیدہ نظر آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بحری نقل و حرکت، فوجی تنصیبات کی حفاظت اور اسٹرٹیجک مقامات پر کنٹرول کی جنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کسی بھی وقت کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نہ صرف توانائی کی ترسیل کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بھی بڑھا دے گی۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی طاقتوں کا کردار اس بحران میں انتہائی اہم ہے۔ چین اور روس جیسے ممالک اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں، جہاں وہ اپنی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ یورپی ممالک، جو توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، اس بحران کے فوری خاتمے کے خواہاں ہیں۔ اس طرح ایک پیچیدہ عالمی منظرنامہ سامنے آتا ہے جہاں ہر طاقت اپنے مفادات کے تحت حرکت کر رہی ہے۔پاکستان کے لیے یہ ایک نازک مگر اہم موقع ہے، اگر وہ اپنی سفارتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے تو نہ صرف عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ داخلی طور پر بھی معاشی استحکام حاصل کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں میں تسلسل اور توازن برقرار رکھے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکا اور ایران کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔
1979 کے انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ مختلف ادوار میں مذاکرات کی کوششیں ضرور ہوئیں، مگر کوئی بھی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔ یہی تاریخی پس منظر موجودہ مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔عالمی معیشت کے حوالے سے اگر مزید گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ بحران صرف تیل تک محدود نہیں۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو ایک عالمی معاشی بحران جنم لے سکتا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، بیروزگاری اور صنعتی سست روی جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات نہ صرف ایک سفارتی پیش رفت ہیں بلکہ ایک امید کی کرن بھی ہیں، اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہوگا۔ پاکستان کی کوششیں اس حوالے سے قابلِ تحسین ہیں، مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
آخرکار دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک درست فیصلہ اسے استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے جب کہ ایک غلط قدم تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے اور اسے نہایت دانشمندی اور بصیرت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کی جانب لے جایا جا سکے۔