بھارت و بنگلہ دیش تعلقات: پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟

0 minutes, 1 second Read
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی سماج کی جو درگت بنی ، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کسی نے اُس دَور کی اجتماعی بنگلہ دیشی شکل ملاحظہ کرنی ہو تو آج کی بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کی معروف رکن ، بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، کی شائع ہونے والی تازہ کتاب( اندھیری جیل کا قیدی) کا مطالعہ کرلے ۔ سب چانن ہو جائے گا۔

شیخ حسینہ واجد کے متنوع مظالم ، استحصالی قوانین اور بھارت کی جانب بے تحاشہ جھکاؤ سے بغاوت کرتے ہُوئے بنگلہ دیشی طلبا و نوجوان طبقہ نے ’’عوامی لیگ‘‘ اور حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ۔ یہ غیر معمولی واقعہ اگست2024 کو وقوع پذیر ہُوا ۔ تختہ اُلٹنے کی تحریک میں مبینہ طور پر1400 بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے ۔ اِن سانحات کی تمام ذمے داری شیخ حسینہ واجد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی گئی۔

حکومت کے خاتمے پر حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر اپنے محسن ملک ، بھارت، میں پناہ گزیں ہو گئیں ۔ اب تک وہیں ہیں ۔ متنوع اور سنگین الزامات کے تحت بنگلہ دیشی عدالت حسینہ واجد کو سزائے موت بھی سنا چکی ہے ۔بنگلہ دیش میں پروفیسر محمد یونس کی سابقہ عبوری حکومت نے متعدد بار بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ حسینہ واجد کو ہمارے حوالے کیا جائے ، مگر مودی حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا ۔

حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبل انعام پانے والے معروفِ عالم بنگلہ دیشی پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی ۔ اُن کی18 ماہانہ حکومت کے دوران بھارت و بنگلہ دیش تعلقات نچلے درجے پر دیکھے گئے ۔ اِسی عرصے میں پاکستان و بنگلہ دیش تعلقات نئی بلندیوں پر پائے گئے ۔ اور اِسی دوران کئی بنگلہ دیشی عسکری شخصیات نے بھی پاکستان کے دَورے کیے۔ پاک ، بنگلہ دیش سفارتی و تجارتی تعلقات میں خاصا اضافہ ہُوا ۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ مناظر خاصے تکلیف دِہ تھے ، مگر اُس نے خاموش رہ کر بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات کو بالکل ہی منقطع نہ ہونے دیا ۔

کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ ، جے شنکر، ڈھاکہ میں اُس وقت پُر جوش انداز میں دیکھے گئے جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم ( خالدہ ضیاء) کا (یکم جنوری 2026کو) جنازہ اُٹھا ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جے شنکر کی مذکورہ شرکت اِس امر کا عندیہ ہے کہ بھارت کسی بھی طور بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ وہ پکے ہُوئے پھل کی طرح پاکستان کی گود میں جا گرے ۔ جب کہ پاکستان کا شائد یہ خیال تھا کہ پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران پاک ، بنگلہ دیش تعلقات میں جو شاندار اُبھار آیا ہے ، یہ یونہی برقرار رہے گا ۔

ایسا مگر نہیں ہو سکا ہے ۔ ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ فروری2026 کو بنگلہ دیش میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد جونہی BNPکی حکومت آئی اور (خالدہ ضیاء مرحومہ کے صاحبزادے) جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے ،بھارت اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں پہلے کی طرح پھراضافہ ہونے لگا ہے ۔

یاد رہے یہ بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، ہی تھے جنھوں نے طارق رحمن صاحب کی جماعت کی بھاری اکثریت سے کامیابی پر ( پاکستان سے پہلے) طارق رحمن کو انتخابی فتح کی مبارکباد دی تھی ۔طارق رحمن کی حکومت بنتے ہی بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ ، خلیل الرحمن ، نے سب سے پہلے بھارت کا 2 روزہ دَورہ کیا ہے۔ یہ دَورہ8 اپریل2026 کو عمل میں آیا ۔خلیل الرحمن نے اِس وِزٹ کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور مودی کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ، اُجیت ڈووَل، (جو پاکستان دشمنی میں خاصے معروف و مشہور ہیں) سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ خلیل الرحمن نے بھارتی وزیر پٹرولیم ، ہر دیپ سنگھ پوری، سے بھی مفصل ملاقاتیں کیں۔

بھارتی میڈیا بامسرت اعتراف کررہا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیشی و بھارتی حکومت میں عدم اعتماد کے جو کئی بحران دَر آئے تھے ، اب طارق رحمن کی حکومت کے آتے ہی اِن بحرانوں کا دھیرے دھیرے خاتمہ ہو رہا ہے ۔ از سرِ نَو تعلقات میں مضبوطی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ، خلیل الرحمن، نے بھارتی وزیر پٹرولیم سے دانستہ جو تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں ، اُن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مارچ میں بھارت نے طارق رحمن کی بنگلہ دیشی حکومت کو، دو اقساط میں، 15ہزار ٹن پٹرول و ڈیزل فراہم کیا۔ اپریل2026میں بھارت مزید 40ہزار ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو فراہم کرنے کا اعلان کر چکا ہے ۔ ایران ، امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے بھارتی اعانت کا سہارا لیا ۔ اِس بروقت بھارتی احسان کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ بھارت و بنگلہ دیش بگڑے سفارتی تعلقات و روابط میں پھر سے بحالی کا آغاز ہو چکا ہے ۔

بنگلہ دیشی دارالحکومت ، ڈھاکہ ، سے شائع ہونے والے معروف انگریزی اخبار ’’دی ڈیلی اسٹار‘‘ نے 9اپریل2026کو خبر دی ہے کہ بنگلہ دیش ریلویز 200 کی تعداد میں بھارت سے بنے بنائے ریل ڈبے (Coaches)خرید رہی ہے ۔ بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںاِس کا باقاعدہ اعلان بنگلہ دیش کے وزیر ریلوے ، شیخ ربیع العالم، نے کیا ۔ بھارت یہ آرڈر دسمبر2027 تک مکمل کرے گا۔اِس بھاری بھر کم سودے کے اخراجات ’’یورپین انویسٹمنٹ بینک‘‘ برداشت کرے گا۔ اور مذکورہ بینک نے یہ رقم بنگلہ دیش کو قرض میں دی ہے۔

مالی فائدہ مگر بھارت کو پہنچے گا۔ اِسی طرح کرکٹ کے میدان میں بھارت و بنگلہ دیش تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی ، اُسے بھی درست کیا جارہا ہے ۔ اِس کے لیے بھی طارق رحمن کی بنگلہ دیشی حکومت نے ہی بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے ۔ اب تعلقات کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا ہے ۔ اِس خط میں BCBکے ڈائریکٹر آپریشنز ، نظم العابدین فہیم، نے اِس خواہش کا برملا اظہار کیا ہے کہ ’’ ستمبر 2026 میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم شیڈول کے مطابق بھارت میں کھیلنے کے لیے آنا چاہتی ہے ۔‘‘ یوں بھارت و بنگلہ دیش قربتوں کا ایک اور موقع آیا ہے ۔

لگتا یہی ہے کہ بنگلہ دیش چاہتے ہُوئے بھی بھارت سے کامل نجات حاصل نہیں کر سکتا کہ متعدد شعبوں میں بنگلہ دیش ہر پہلو سے بھارت پر انحصار کرتا ہے ۔ دریائے ’’ٹیسٹا‘‘ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر بنگلہ دیش کی بھارت سے ناراضی نمایاں ہے۔ بھارت میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی زبان بولنے والوں سے جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ، اِس منظر سے بھی بنگلہ دیشی عوام بھارت سے خاصے ناخوش ہیں۔ بنگلہ دیشیوں کے لیے بھارتی ویزہ پالیسی بھی برابری اور انصاف پر مبنی نہیں ہے۔

بھارتی BSF( بارڈر سیکیورٹی فورسز) کے مسلح اہلکار آئے روز بنگلہ دیش و بھارت کی مشترکہ سرحد پر بنگلہ دیشی شہریوں کو بے جا طور پر قتل کر ڈالتے ہیں اور بنگلہ دیش احتجاج ہی کرتا رہ جاتا ہے ۔

11اپریل 2026 کو تقریباً تمام بھارتی اخبارات نے یہ خوفناک خبر شائع کی ہے: ’’ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل نے بھارت ، بنگلہ دیش سرحد پر تعینات اپنے جملہ ماتحتوں کو حکم دیا ہے کہ اِس امر کا جائزہ لیں کہ بھارت و بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد کے درمیان بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں اگر زہریلے سانپ اور خونخوار مگر مچھ چھوڑ دیے جائیں تو کیا اِس اقدام سے بنگلہ دیشیوں کو بھارت میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے ؟۔‘‘اِس پر ایک بھارتی صحافی ( سنجیو کرشن سُوڈ) نے لکھا کہ ’’ سوال یہ ہے کہ اِس مہلک زہریلی مخلوق کو بھارتی شہریوں کو کاٹنے سے کیسے منع کیا جائے گا ؟۔‘‘

Similar Posts