غیر ملکی قرضوں کا نہ ختم ہونے والا وبال

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان نے سعودی عرب کی مالی معاونت سے یو اے ای کا مزید دو ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا ہے جس کے بعد زرمبادلہ ذخائر برقرار رہنے کا سرکاری اعلان کر دیا گیا ہے۔ اعلان کے مطابق رواں ہفتے ادائیگی کے بعد باقی ایک ارب ڈالر جمعرات کو ادا کر دیا جائے گا۔

امارات کو تین فی صد شرح پر دو سالہ رول اوور کا کہا گیا تھا مگر امارات نے دو ارب ڈالر 6.5 فی صد شرح پر صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیے تھے اور پاکستان کی درخواست منظور نہیں کی تھی جس پر دوسرا برادر اسلامی ملک سعودی عرب ہی کام آیا جس نے زرمبادلہ ذخائر 15 ارب ڈالر برقرار رکھنے میں مدد کی جس کی وجہ سے امارات کے قرض کی واپسی ممکن ہو سکی اور پاکستان امارات کے قرض سے نجات پا سکا جو امارات نے پاکستان کو 6.5 فی صد سود پر دیے تھے اور اماراتی قرض پاکستان نے کہیں اور استعمال نہیں کیا تھا بلکہ وہ زرمبادلہ کے طور پر محفوظ تھا اور امارات ، پاکستان سے سب سے زیادہ سود وصول کر رہا تھا اور پاکستان یہ بھاری سود ادا کرنے پر مجبور تھا کیونکہ 15 ارب ڈالر زرمبادلہ کے لیے برقرار رہنا ضروری تھا ۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا گیا ہے اور معاشی اشارے بہتر اور ریٹنگ مضبوط بنیاد پر برقرار قرار دی گئی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ سے متوقع منظوری کے بعد قسط جاری کر دی جائے گی۔ نئی قسط ملنے کے بعد بھی حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرض مانگنا بند نہیں کرے گی اور دیگر عالمی اداروں اور دوست ملکوں سے قرضوں کے حصول کا سلسلہ بند نہیں ہوگا اور ملک و قوم مزید مقروض ہوتے رہیں گے کیونکہ قرض ایک بار مانگنے کے بعد یہ عادت ختم نہیں ہو جاتی ،صرف پہلی بار کچھ شرمندگی ہوتی ہے اور پھیلے ہوئے ہاتھ میں قرض آ جائے تو اسے کامیابی سمجھا جاتا ہے اور انکار نہ ہونے سے ہمت بڑھ جاتی ہے اور مقروض مزید قرضوں کا عادی ہو جاتا ہے اور یہ مقروضوں کی فطرت ہے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ محدود وسائل میں یہ قرض واپس کیسے ہو سکے گا۔

مالی حالات خراب ہونے یا کسی وجہ سے اخراجات بڑھ جانے پر ہی قرض لینا مجبوری بن جاتا ہے اور عزت نفس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنے اخراجات میں کسی نہ کسی طرح کمی کرکے کچھ بچت کرکے قرض اکٹھا نہیں تو کچھ نہ کچھ تو واپس کیا جائے ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کا قرض سر پر چڑھا ہوا ہو اس کی ادائیگی کے لیے اپنے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی باعزت طریقہ ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ پہلا قرض اتارنے کے لیے پرانے سود خور سے اس کی سخت شرط پر دوبارہ قرض مانگا جائے یا پھر کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلا کر قرض لیا جائے اور پہلے والے کو اس کا پہلا قرض واپس کیا جائے جس کی رقم میں سود شامل ہونے سے مزید اضافہ ہوچکا ہوتا ہے جس کی ادائیگی کے لیے مزید قرض سود پر لے کر پہلا قرض چکایا جائے تو اسے عقل مندی قرار دیا جاتا ہے نہ بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سودی کاروبار ختم کرنے کی تجاویز اور فیصلہ دے چکی ہے جسے ماضی کی حکومتوں میں سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا مگر کیونکہ نازک شرعی مسئلہ ہے جس پر سالوں سے فیصلہ نہیں آ رہا اور جانے والے آنے والوں کے لیے یہ فیصلہ چھوڑ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے کم مدت رہنے والے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جاتے جاتے اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ دیا تھا جس میں شریعت بھی حائل نہیں تھی مگر انگریزی میں رعب جھاڑنے کی عادی بیورو کریسی نے کسی بھی حکومت سے یہ فیصلہ نہیں ہونے دیا اور اعلیٰ عدالتی حکم پر کسی حکومت نے عمل کیا اور سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے پر عمل کرانا ضروری نہیں سمجھا۔ہمارے مذہب میں سود کی انتہائی سختی سے ممانعت ہے اور سود لینے اور دینے کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کے حکمران سودی کاروبار کے مخالف نہیں ۔

اسی لیے ریاست مدینہ کے قیام کے دعویدار ایک وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کی کوشش کی تھی مگر اس نے بھی آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر انھوں نے اپنی حکومت جاتی دیکھ کر بعض ایسے فیصلے کیے جس سے یہ عالمی ادارہ ناراض ہو گیا مگر چار سال قبل آنے والے موجودہ حکمرانوں نے سابق حکومت پر ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزام میں آئی ایم ایف کو منتوں، ترلوں اور ان کی کڑی شرائط مان کر عالمی مالیاتی ادارے کو مزید قرض دینے پر آمادہ کیا جو ملک پر اپنی مرضی کے فیصلے بلکہ عوام دشمن فیصلے مسلط کرا کر بھی قسطوں میں قرض بڑا احسان کرکے سود پر دے رہا ہے اور وزیر خزانہ نے امریکا جا کر آئی ایم ایف کو اسٹاف لیول معاہدے پر راضی کر لیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف بتاتے رہے ہیں کہ کن خوشامدوں سے یہ قرض حاصل کیا جا رہا ہے کیونکہ قرضے لینا حکومت کی بھی مجبوری اس لیے بن چکی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے میں سنجیدہ نہیں بلکہ قرض لے کر فخر کرتی ہے۔

Similar Posts