وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے موصول ہوئی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کے لیے حتمی شکل دی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آئی ایم ایف پروگرام میں طے شدہ بینچ مارکس اور شرائط کے مطابق تیار کیا جارہا ہے اور آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اگلے ماہ پاکستان آئے گا جس میں بجٹ تجاویز پر تفصیلی مشاورت کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔
توقع ہے کہ جون کے پہلے عشرے اگلے مالی سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 5.1 فیصد رکھنے کی تجویز ہے جو کہ رواں مالی سال 4.2 فیصد مقرر ہے۔
اسی طرح اگلے مالی سال ٹیکس ہدف ساڑھے 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے جو کہ رواں مالی سال کے لیے 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر ہے اور ہدف پر نظرثانی کے باوجود ایف بی آر کو 9 ماہ میں 610 ارب روپے خسارہ ہوا اس سال جون تک انکم ٹیکس ریٹرن میں مزید 10 لاکھ اضافے کا ہدف ہے اگلے سال مارچ تک گوشواروں میں مزید ساڑھے 7 لاکھ اضافہ کیا جائے گا۔