حکام کے مطابق ملزم کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور برقی آلات سے بڑی مقدار میں قابلِ اعتراض مواد برآمد ہوا ہے، جس نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی اداروں کو ملزم کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ سے ایسی ویڈیوز اور فائلز ملی ہیں جن میں نہ صرف بالغ لڑکیاں بلکہ کم عمر بچوں سے متعلق بھی حساس اور غیر اخلاقی مواد شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کے زیرِ استعمال مختلف الیکٹرانک ڈیوائسز سے مجموعی طور پر 20 سے 30 ٹیرا بائٹ ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے، جس کی مکمل جانچ ابھی جاری ہے۔
یاد رہے کہ D4vd پر 14 سالہ لڑکی سیلسٹے ریواس ہرنینڈز کے قتل کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش گلوکار کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی سے ملی تھی، جسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور اس کی حالت انتہائی خراب تھی۔ طبی معائنے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ لاش میں نشہ آور ادویات کے اثرات موجود تھے۔
عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اب تک صرف ایک ٹیرا بائٹ ڈیٹا کا جائزہ لیا جاسکا ہے جبکہ باقی مواد کی چھان بین جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شواہد، جن میں ویڈیوز، ڈی این اے، تصاویر اور فرانزک رپورٹس شامل ہیں، آئندہ سماعت پر دفاعی ٹیم کے حوالے کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق ابتدائی شواہد یہ اشارہ دیتے ہیں کہ قتل ممکنہ طور پر مالی فائدے یا ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا، تاہم تفتیش ابھی جاری ہے اور حتمی نتیجہ سامنے آنا باقی ہے۔
دوسری جانب ملزم نے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے جبکہ گلوکار کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اس کی بے گناہی ثابت کریں گے۔ عدالت نے کیس کی سنگینی کے پیش نظر ملزم کو بغیر ضمانت کے حراست میں رکھنے کا حکم دے رکھا ہے۔