امریکا میں ‘ایچ ون بی’ ویزوں پر 3 سالہ پابندی کی تیاری؟

0 minutes, 0 seconds Read

امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے ایچ ون بی ویزا پروگرام کو تین سال کے لیے معطل کرنے اور اس میں بڑی تبدیلیاں لانے کے لیے ایک نیا بل پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔

یہ مجوزہ قانون، جسے ”اینڈ ایچ ون بی ویزا ابیوز ایکٹ 2026“ کا نام دیا گیا ہے، ریپبلکن رہنما ایلی کرین کی جانب سے پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں خامیاں ہیں اور اسے ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ امریکی کارکنوں کو ترجیح دی جا سکے۔

اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو بڑے کارپوریٹ اداروں کے منافع کے بجائے اپنے محنتی شہریوں کے مفاد میں کام کرنا چاہیے اور اس ٹوٹے ہوئے نظام کو ٹھیک کرنا ضروری ہے جو امریکیوں کو ان کی اپنی ہی نوکریوں سے محروم کر رہا ہے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت ویزوں کی سالانہ تعداد کو 65 ہزار سے کم کر کے صرف 25 ہزار تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ویزا دینے کے لیے رائج موجودہ لاٹری سسٹم کو ختم کر کے اسے تنخواہ کی بنیاد پر انتخاب کے عمل سے بدلنے کی بات کی گئی ہے۔

نئے قوانین کے مطابق غیر ملکی کارکن کی کم از کم سالانہ تنخواہ دو لاکھ ڈالر مقرر کی جائے گی تاکہ سستی لیبر کے رجحان کو روکا جا سکے۔

آجروں یعنی نوکری دینے والے اداروں کے لیے یہ بھی لازمی ہوگا کہ وہ پہلے اس بات کی تصدیق کریں کہ انہیں اس کام کے لیے کوئی اہل امریکی شہری نہیں ملا اور انہوں نے ویزا دینے کے لیے اپنے کسی امریکی ملازم کو فارغ نہیں کیا۔

اس بل میں مزید سخت شرائط بھی شامل کی گئی ہیں جن کے مطابق ایچ ون بی ویزا رکھنے والے افراد ایک سے زیادہ نوکریاں نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی وہ اپنے اہل خانہ کو امریکہ لا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی تربیت کا پروگرام او پی ٹی بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ویزا ہولڈرز کے لیے مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کا راستہ بھی روک دیا گیا ہے۔

قانون سازوں کا موقف ہے کہ یہ ویزا پروگرام امریکی ورکرز کو ہٹا کر سستی غیر ملکی لیبر لانے کا ذریعہ بن چکا تھا، اس لیے اب اس پر بریک لگانا ضروری ہے تاکہ ملک میں امریکیوں کی بالادستی قائم رہ سکے۔

امیگریشن اکاؤنٹیبلٹی پراجیکٹ کی شریک بانی روزمیری جینکس نے اس بل کو اب تک کا سب سے مضبوط قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایچ ون بی ویزا واقعی عارضی ضرورت کے لیے استعمال ہو۔

ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت امریکی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو خاص طور پر ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں ملازمت دیتی ہیں۔ اس پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ بھارتی شہریوں کو ہوتا رہا ہے، جو امریکی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ پروگرام کئی سالوں سے امریکی سیاست میں بحث کا موضوع رہا ہے۔ کچھ حلقے اسے مقامی کارکنوں کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ نظام امریکا میں مہارت اور جدت کو فروغ دیتا ہے۔

Similar Posts