ایران، امریکا، اسرائیل تنازع: پاکستان کا فائدہ یا نقصان؟

0 minutes, 0 seconds Read
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ایک غیریقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس جنگ نے طاقت کے توازن، عالمی قانون اور سفارتکاری کے اصولوں کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بڑے تصادم میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اور آخرکار پاکستان کیا فائدہ اٹھانے والوں میں ہوگا یا نقصان اٹھانے والوں میں؟

یہ تنازع اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط کشیدگی کارفرما ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور عسکری ڈھانچے پر حملوں نے اس جنگ کو ایک کھلے تصادم میں تبدیل کر دیا۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جب کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی، علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی پوزیشن نہایت حساس ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا ہمسایہ اور تاریخی، مذہبی و ثقافتی رشتہ رکھنے والا ملک ہے جب کہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی عالمی نظام میں اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کو ایک اور حساس دائرے میں لے آتا ہے، جہاں توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔

اس پیچیدہ صورتحال میں پاکستان نے جو سب سے اہم کردار ادا کیا ہے وہ سفارتی ہے۔ پاکستان نہ صرف اس تنازع میں غیرجانبدار رہنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ اس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر کے ثالثی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات، اگرچہ فوری نتائج نہ دے سکے لیکن یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے کہ دونوں متحارب قوتیں پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے متوازن اور محتاط سفارتکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے ایک طرف عالمی فورمز پر جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جب کہ دوسری طرف براہِ راست رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بلکہ امن کا داعی ہے۔

اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بھی نہایت اہم رہا ہے۔ عسکری قیادت نے نہ صرف سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ بیک چینل رابطوں کے ذریعے پاکستان کی پوزیشن کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کیے جن کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اب تک کیا حاصل کیا ہے؟ سب سے پہلی کامیابی سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہے۔ اس تنازع نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

امریکا، ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کا پاکستان پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بھی ایک اہم اسٹریٹجک کھلاڑی ہے۔ دوسری کامیابی یہ ہے کہ پاکستان نے خود کو براہِ راست جنگ سے دور رکھا ہے۔ ماضی کے برعکس، جہاں پاکستان اکثر بڑی طاقتوں کے تنازعات میں براہِ راست یا بالواسطہ شامل رہا، اس بار اس نے محتاط حکمت عملی اختیار کی ہے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایک متوازن خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس نے نہ صرف ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا بلکہ امریکا کے ساتھ بھی رابطے جاری رکھے، جو ایک مشکل کام ہے۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تسلسل سے تعلقات کو جاری رکھنا جوکہ دنیا کو ایک ’’کیسینو‘‘ کی طرح ڈیل کرتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اپنے بیانات اور حکمت عملی بدل لیتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ان کامیابیوں کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ معاشی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور ترسیلات زر پر ممکنہ اثرات بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

دوسرا خطرہ سکیورٹی کا ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی صورتحال، فرقہ وارانہ تناؤ اور خطے میں بڑھتی عسکری سرگرمیاں پاکستان کے اندرونی استحکام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تیسرا خطرہ سفارتی دباؤ کا ہے۔ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان پر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو اس کی متوازن پالیسی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اب اصل سوال: کیا پاکستان اس تنازع میں آخرکار فائدہ اٹھانے والا ہوگا یا نقصان اٹھانے والا؟ اس کا جواب مکمل طور پر پاکستان کی آیندہ حکمت عملی پر منحصر ہے۔

اگر پاکستان اپنی موجودہ متوازن پالیسی کو برقرار رکھتا ہے، سفارتی کوششوں کو جاری رکھتا ہے اور داخلی استحکام کو مضبوط بناتا ہے تو وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایک کامیاب ثالث کے طور پر اس کی عالمی حیثیت مضبوط ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں اقتصادی اور سفارتی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔

لیکن اگر صورتحال بگڑتی ہے، جنگ پھیلتی ہے یا پاکستان کسی ایک بلاک کی طرف جھکاؤ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان پر معاشی دباؤ، سکیورٹی خدشات اور سفارتی تنہائی جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔ جذبات کے بجائے حقیقت پسندی اور وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران، امریکا، اسرائیل تنازع پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ یہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی بلکہ پاکستان کی سیاسی بصیرت اور ریاستی حکمت عملی کا بھی امتحان ہے۔ اگر پاکستان نے دانشمندی، توازن اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا تو وہ اس بحران کو ایک موقع میں تبدیل کر سکتا ہے۔

بصورتِ دیگر، یہ ایک ایسا بحران ثابت ہو سکتا ہے جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ فی الحقیقت پاکستان ان دنوں ایک منفرد سفارتی اور سیاسی دور سے گزر رہا ہے،’’نہ جائے رفتن اور پائے ماندن‘‘ کی مصداق پاکستان تاریخ کے ایک اہم ترین دوراہے پر کھڑا ہے۔

دنیا بھر کی نظریں پاکستان کے ہر قدم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم سب دعا گو ہیں کہ رب کریم ہماری قیادت کو دانشمندانہ اور دور اندیش فیصلے کرنے کی سکت عطا کرے۔

Similar Posts