ہائیر ایجوکیشن کے الجھے دھاگے

0 minutes, 3 seconds Read
’’آپ کی بیٹی نے سنگاپور کی دوسری بہترین یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ اس کے بعد تو اسے بہت بہتر جاب مل سکتی تھی، اس نے نرسری ٹیچر کی جاب کیوں اختیار کی؟‘‘ ہم نے اپنے میزبان سے سوال کیا۔

ہوانگ نے مسکراتے ہوئے ہماری جانب دیکھا اور جواب دیا: آپ کو شاید اندازہ نہیں کہ سنگاپور میں نرسری ٹیچر کی ملازمت کس قدر مشکل سے ملتی ہے، اس پروفیشن کی عزت بھی بہت ہے اور تنخواہ بھی بہت معقول، اسی لیے اس فیلڈ میں ہر کس وناکس کا شامل ہونا آسان نہیں!

ہم حیرت سے میزبان کی باتیں سن رہے تھے۔ بولے: ماسٹرز کرنے کے باوجود اسے دو سال کی ٹریننگ اور نگرانی کے عمل سے گزرنے کے بعد انفرادی طور پر کلاس پڑھانے کی اجازت ملی!
لگ بھگ بیس سال قبل ہوئے۔ اس مکالمے نے ہمیں سوچ میں ڈال دیا، جو قوم ابتدائی اسکول کلاسز کے معیار پر اس قدر سنجیدہ اور کمربستہ ہے، اس کی اعلیٰ تعلیم کا معیار بھی شاندار ہونا لازم ہے۔

کچھ یہی عالم ہم نے ان دنوں ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، تائیوان میں بھی دیکھا جو اس زمانے میں ایشیائی اقتصادی ٹائیگرز کہلاتے تھے۔ اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی میں دسترس، صنعتی پیداوار میں مہارت اور انٹرنیشنل مارکیٹ کے مسابقتی ماحول میں مقام بنانے کے سب راستے ملک میں رائج تعلیمی نظام اور معیاری تعلیم بطور قومی ترجیح کی دہلیز سے گزرتے ہیں۔

اس معیار پر ہم اپنے ملک کو پرکھیں تو آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم وہاں کیوں نہیں ہیں جس کی خواہش تو سب کو ہے لیکن ہمت اور سکت جواب دے چکی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام بنیادی طور پر تین مختلف دھاروں پر استوار ہے:

سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر، اشرافیہ کے انگلش میڈیم اسکولوں، جن کی کتابیں اور امتحانات بھی بیرونی اداروں کے مرہون منت ہیں اور اشرافیہ کی ورلڈ کلاس یونیورسٹیاں۔ تیسرے دھارے میں مذہبی تعلیمی ادارے یا ان سے منسلک اسکول سسٹمز۔

ان تینوں دھاروں کے اپنے اپنے تعلیمی اہداف یعنی learning outcome ہیں۔ تینوں دھاروں میں خلیج وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے، ماضی میں چند سنجیدہ حکومتی کوششوں کے باوجود یہ تین دنیائیں قائم و دائم اور پھیل رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے لاہور گورننس فورم نامی تھنک ٹینک کے زیراہتمام پبلک سیکٹر میں اعلیٰ تعلیم کی صورت حال اور مسائل پر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے ساتھ ایک نشست ہوئی۔ بہت دلچسپ اور فکرانگیز پہلو زیربحث آئے۔

ان میں سے ایک مضامین کے انتخاب کے رجحانات کا پہلو بھی تھا۔ بقول وائس چانسلر طلباء اور والدین ایسی ڈگری میں دلچسپی رکھتے ہیں جس سے اچھی ملازمت فوری ملے، چاہے بچوں کی دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ کچھ عرصہ قبل کمپیوٹر سائنس کا جنون تھا، اب اے آئی کا غلغلہ ہے۔

آرٹس کے مضامین کی طرف رجحان بہت کم ہے اور بعد میں ملازمت کے مواقع مزید کم۔ اس پر مستزاد یہ کہ اکثر پالیسی ساز بھی کمال معصومیت سے سوال کرتے ہیں کہ سوشل سائنسز کے یہ مضامین پڑھانے کی ضرورت کیا ہے؟ (تاریخ، فلسفہ، سوشیالوجی، لسانیات، پولیٹیکل سائنس وغیرہ)
دو مزید اہم مسائل یعنی پبلک یونیورسٹیوں کے مشکل مالی معاملات، فیصلہ سازی کی محدود سپیس اور انتظامی مداخلت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس نشست کے بعد اس موضوع پر مزید سوچ بچار کے دروازے کھلے تو احساس ہوا کہ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کی بحث اکثر ان روایتی سوالات کے گرد گھومتی ہے یعنی نصاب، فنڈنگ، ریسرچ… تاہم ایک اور اہم مسئلہ بھی قابل ذکر ہے: سمت اور ساخت کا یعنی direction and structure۔ جامعات کی تعداد بڑھی، داخلے بڑھے مگر معیشت، تحقیق اور سماجی بہتری پر اثر اس تناسب سے نہیں بڑھا۔

گزشتہ دو دہائیوں میں جامعات کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جسے پالیسی سطح پر کامیابی سمجھا گیا۔ مگر یہ پھیلاؤ معیار ، ہنر اور ٹیکنالوجی میں متشکل نہ ہو سکا۔ گریجویٹس کی تعداد بڑھی مگر ان کی معاشی شمولیت (employability) وہ رفتار حاصل نہ کر سکی جو معیشت کو درکار تھی۔

نتیجتاً ایک تضاد پیدا ہوا: ڈگریاں زیادہ، مہارت کم۔ یہ وہ خلا ہے جس نے ہائر ایجوکیشن کو ’’حجم‘‘ میں کامیاب مگر ’’اثر‘‘ یعنی impact میں مؤثر کامیابی سے دوری پر ہی رکھا۔یہ تضاد سب سے واضح طور پر سرکاری اور نجی جامعات کے تقابل میں نظر آتا ہے۔

سرکاری ادارے پبلک کو بڑے پیمانے پر رسائی فراہم کرتے ہیں، کم فیس، زیادہ داخلے، مگر وسائل کی کمی اور محدود exposure ان کا چیلنج ہیں۔ اس کے برعکس نجی جامعات، جو تعداد میں کم مگر اثر یعنی influence میں نمایاں ہیں، بہتر انفراسٹرکچر، سافٹ سکلز اور مارکیٹ سے بہتر ربط کی حامل ہیں مگر بھاری فیس کے ساتھ!

اٹھارہویں ترمیم نے اس منظرنامے میں ایک نیا زاویہ شامل کیا۔ تعلیم کی صوبوں کو منتقلی اصولی طور پر مقامی ضروریات کے مطابق پالیسی سازی کا موقع تھی مگر عملی طور پر اس نے ہم آہنگی اور یکساں تعلیم و ہنر کے معیار کو کمزور کیا۔

کئی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس ترمیم کے بعد صوبوں کے درمیان معیار اور ترجیحات میں فرق بڑھا ہے۔ہائر ایجوکیشن کا سب سے حساس پہلو قیادت ہے۔ وائس چانسلر کسی بھی جامعہ کی سمت کا تعین کرتا ہے مگر پاکستان میں اس تقرری کا عمل اکثر سوالات کی زد میں رہتا ہے۔

جب قیادت کا انحصار میرٹ کے بجائے خاموش منظوری (approval) پر ہو تو ادارہ بھی اسی منطق پر چلتا ہے۔ نتیجتاً پالیسیوں میں تسلسل کم، فیکلٹی میں اعتماد کم اور تحقیق کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی ایک تخلیقی ادارہ کم اور ایک محتاط انتظامی ڈھانچہ زیادہ بن جاتی ہے۔

یونیورسٹی اور انڈسٹری کے درمیان فاصلہ برقرار ہے۔ انڈسٹری کو مسائل حل کرنے والے افراد درکار ہیں جب کہ یونیورسٹی اب بھی نصاب کی تکمیل کو کامیابی سمجھتی ہے۔ تحقیق جرائد تک محدود ہے، مارکیٹ تک نہیں پہنچتی۔ یہی وجہ ہے کہ جدت اور پیداواریت کے اشاریوں میں پاکستان کی کارکردگی کمزور رہتی ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں محض نصاب، ڈگری یا فنڈنگ کا ہی بحران نہیں بلکہ تین سطحی غیرمحسوس بحران بھی ہے: اعتماد، سمت اور ترجیح۔ ان تمام عوامل سے احسن اور ترجیحی بنیادوں پر نمٹنا ہوگا۔

ہائر ایجوکیشن کو ’’ڈگری‘‘ سے ’’قابلیت‘‘ کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ سوال بہت سادہ ہے مگر فیصلہ غیرمعمولی: کیا ہم یونیورسٹیوں کو فقط انتظامی ڈھانچہ رہنے دیں گے یا اسے واقعی قومی ترقی کا انجن بنانے میں سنجیدہ ہیں؟ ہمارے کل کا دارومدار ہمارے آج کے فیصلوں، رویوں اور ترجیحات پر منحصر ہے۔

Similar Posts