اغوا کاروں نے معصوم بچے کی رہائی کے بدلے 60 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد) تاوان کا مطالبہ کیا تھا لیکن پولیس کی تیز رفتار تفتیش اور جدید ٹیکنالوجی نے ان کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔
تفصیلات کے مطابق 16 اپریل 2026 کو شہری محب اللہ نے تھانہ خالق شہید میں رپورٹ درج کروائی کہ نامعلوم افراد نے ان کے بیٹے مزمل احمد کو اغوا کر لیا ہے، اغوا کاروں نے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرتے ہوئے 60 ہزار ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں بچے کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی سنگین دھمکیاں دیں۔
کیس کی سنگینی کے پیش نظر کیس کو فوری طور پر سیرس کرائم انوسٹی گیشن ونگ (SCIW) منتقل کردیا گیا جہاں ایس ایس پی ملک اصغر کی ہدایات پر ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔
پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگالیا، خفیہ اطلاع پر مشرقی بائی پاس پر واقع علیزئی ٹاؤن میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے معصوم بچے مزمل احمد کو ایک کمرے میں پلنگ کے نیچے سے برآمد کرلیا گیا۔
پولیس نے اغوا میں براہ راست ملوث خاتون مسماۃ مظلیفہ کو گرفتار کر لیا۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ بچے کی بازیابی پر والدین نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔