ان خیالات کا راولپنڈیز کی قیادت کرنے والے محمد رضوان نے اپ حیدراباد کنگز مین کے ہاتھوں شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ دو ارب 45 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی راولپنڈیز متوقع کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی،دس میچز میں نو مرتبہ ہارنے والی راولپنڈی کو ہم نے اچھی ٹیم بنانے کی کوشش کی،تاہم کرکٹ ناموں پر نہیں چلتی جو ٹیم زیادہ محنت کرتی ہے وہ کامیابی پاتی ہے ،ہماری ٹیم میں کہیں نہ کہیں کمی رہ گئی تھی جو نظر نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تین کھلاڑی انجریز کا شکار ہوئے،تاہم نوجوان کھلاڑیوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا،سعد مسعود، عبداللہ فضل، یاسر خان، عماد بٹ، علی رضا اور سمیر منہاس سے بہت توقعات ہیں،امید ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی بدولت پاکستان کرکٹ ٹیم ایک مرتبہ پھر بلندی پائے گی، سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کے صاحبزادے اور کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے اعظم خان نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران غیر معمولی طور پر کافی محنت کی ہے،ان سے بہتر نتائج کی توقع ہے،خواہش تھی کہ لاہور قلندرز پلے آف میں جگہ بنائے۔
فیصلہ کن میچ میں ہم حیدرآباد کنگز مین کے خلاف زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے، اہم ترین کیچز چھوڑے گئے جبکہ بیٹنگ میں بھی ناکامی رہی،اہم موقع پر عثمان خواجہ نے ہدایت طلب کی تو میں نے کہا کہ گزشتہ میچ کی کارکردگی پر حیدرآباد کنگز مین کامیابی کا مستحق نہیں لیکن اگر وہ ہمیں آؤٹ کر لیں تو وہ الگ بات ہوگی۔
محمد رضوان نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ مشکل حالات میں پی ایس ایل کرانے یا نہ کرانے کے لیے اجلاس طلب کیا گیا تھا،اللہ بہتر جانتا ہے کہ فیلڈ مارشل، وزیراعظم یا چیئرمین پی سی بی نے جواب دیا تھا کہ قوم کی ایک ہی خوشی کرکٹ ہے،پی ایس ایل بھی نہ ہوا تو قوم کو کیا جواب دوں گا،دراصل یہ جواب ذاتی طور پر میرے لیے انتہائی عجیب سا تھا۔
ذاتی کارکردگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں محمد رضوان نے کہا کہ میری فارم اچھی نہیں ہے، شاید محنت میں کمی رہ گئی ہے، چار سال تک میں نے ملتان سلطانز کو فائنل میں پہنچایا، شاید یہ میری آزمائش کا وقت ہے، ممکن ہے کہ مستقبل میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کروں،محمد رضوان نے کہا کہ پی ایس ایل کے فائنل میں تماشائیوں کو قذافی اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دینا خوش آئند ہے لیکن لاہور قلندرز تو نہیں ہوگی۔